Friday, 23 January 2015

سیلاب بنام عوام

خود کلامی
..................

میرے پیارے کشمیری بھائیو بہنو!
ماہ ستمبر ۲۰۱۴ کو جب میں نے اپنا جلوہ دکھایا تو لوگ یا تو مجھے مذاق تصور کرتے تھے یا اپنے گھمنڈ اور غرور کے شکار ہو کر اپنی ہی من مانیوں میں مست تھے، ایسے میں جب میں نے اپنا جلال دکھایا تو ڈر کے مارے تم لوگ یا تو بھاگ گئے یا اپنے مال و جائداد کی محبت میں اپنے ہی گھروں میں ٹکے رہے، اور پھر جب میں سر سے گزر گیا توبھاگنے کا راستہ بھی نہ پاگئے۔ دراصل میرا ایک اصول ہے کہ میں آنے سے قبل ’’باخبر‘‘ نہیں کرتا ، میری آمد ایک اشارے کی محتاج ہوتی ہے اور جوں ہی یہ مجھے مل جائے اُسی دم میری آمد آمد ہو جاتی ہے لیکن یاد رہے میں بن بلایا مہمان نہیں ہوتا بلکہ میری آمد کے پیچھے راز ہائے دروں اور اسباب کا فسانۂ عجائب چھپا ہوتا ہے ان کو جاننے کے لیے انسان کے پاس ایک جام ِجم ہے،  جس سے وہ جب چاہے یہ معلوم کر لے کہ مجھے کس نے بُلایااور کیوں۔ ماہ ستمبر کو جب میں نے اپنی آمد کا بگل بجا دیا تو وادی معمول کے مطابق اپنی زندگی جی رہی تھی، کوئی کاروبار میں مست تھا تو کوئی ملازمت میں محو، سکولی بچے امتحانات کی تیاری کر رہے تھے اور کئی لوگ خر چیلی شادیوں کی تیاریوں میں بھی مصروف تھے، ایک طرف لوگ فصلوں کی تیاری دیکھ کر کٹائی کی سوچ رہے تھے تو دوسری جانب لوگ سردی کے لیے انتظامات میں لگے ہوئے تھے کہ اچانک میں نے بستیوں اور بازاروں کھیت کھلیان اور کا رگاہوں میں اپنا ڈیرا جمایا ، لوگ ششدر تھے کہ میں نے نہ آئو دیکھا اور نہ ہی تائو ،بس اوپر چڑھتا ہی گیا، جہاں حکم ملا وہاں کی راہ لی، تم لوگ دوسری سے تیسری اور تیسری سے چوتھی منزل کی جانب بھاگتے  رہے اور میں برابر پیچھا کرتا رہا۔ تم سے میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی بلکہ یہ حکم کی تعمیل تھی، جس حکم کی تعمیل کے آگے کسی اور کا حکم مجھ پر نہیں چلتا۔ میرے آنے سے قبل وادیٔ کشمیر کے بازار کس طرح چمک دمک رہے تھے ،یہ تم سب کو معلوم ہے اور آج بازاروں اور اس میں تجارت پیشہ دکانداروں وغیرہ کی حالت کیا ہے؟ اس سے بھی تم لوگ بخوبی واقف ہو۔ گویا خوشبوئیں بدبو میں تبدیل ہو گئیں۔ شاید دنیا کی اصل حقیقت یہی ہے کہ ہر چیز فانی ہے۔ بہر حال میری آمد تو ہوئی مگر ایک حد پار کر نے کے بعد مجھے بھی آخر کار حکماًرُکنا پڑا ، لیکن اس بیچ کیا سے کیا ہو گیا… اس کا اندازہ بھی تم لوگوںکو نہیں تھا۔
اب جو ہوا سو ہوا، ہونی کو کون ٹال سکتا ہے، لیکن کیا اسی پر بس کیا جائے یا اس پر سوچ کر کچھ کیا جانا چاہیے۔ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ جب بھی اسے کسی مشکل حالت کا سامنا پڑتا ہے تو وہ پہلے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتا ہے، جب مشکلات کے بھنور میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے تو کئی لوگ اپنی ہار تسلیم کر کے ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔ اس وقت یہ ہتھیار ڈال دینا انسان کے لیے فائدہ مند مانا جاتا ہے۔ وادی کے لوگوں پر جب مجھے بھیجا گیا تو لوگوں کی عقلمندی اسی میں تھی کہ وہ ہتھیار ڈال دیں، لیکن کیا کیا جائے کہ اکثر لوگ اب بھی ہتھیار ڈالنے کی نہیں سوچ رہے ہیں۔ اپنی من مانیاں کرنے میں ہی مست ہیں۔ یہ صرف اس وجہ سے کہ شاید اس غلط فہمی میں ہیں کہ یہ سیلاب ایک عارضی معاملہ تھا جو اب ٹل گیا، جان بچ گئی، اب پھر شروع کریں گے لیکن ان کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ جس حکم کی تعمیل میں میں نے یہ سخت ترین جلوہ دکھایا وہ پھر واپس بھی لوٹے گا، اسی کا حکم ایک بار پھر آسکتاہے۔  پہلے میں سیلابی ریلا بن کر آیا ، کیا پتہ خشک سالی ا ور وبا بن کر نمودار ہونے کا حکم ملے ۔میری آمد کئی ایک دوسرے طریقوں سے بھی ہو سکتی ہے، اس وقت میرا مزاج کیا ہو گا اس کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔ اس وقت یہ ہتھیار نہ ڈالنے والے وادی کشمیر کے حق فراموش لوگ مشکلات کے بھنور میں پھنس جائیں گے۔یہ ضروری نہیں اس وقت پھر سے مہلت مل جائے۔ تو یہ ایک مہلت تھی جو تم لوگوں کو دی گئی، اب اگر رواں مہلت میں بھی من مانیاں جاری رکھ کر حاکمِ کائنات اور مد برِ آفاق کے آگے ہتھیار نہ ڈالے تو نہ جانے آنے والا کل تمہارا کل کیسا ہو گا۔ وہ کل جس کے متعلق اب افواہوں کی صورت میں آئے روز اخباروں میں شائع ہورہاہے کہ ’’عنقریب ایک زلزلہ آئے گا جس میں جانی ومالی نقصان کا بھاری خدشہ ہے۔‘‘ غرض یہ ہے کہ گناہوں اورجرائم سے باز اآؤ، اپنی من مانیاں ترک کر لو ، خالق ومالک کے سامنے عاجزانہ انداز میں سرتسلیم خم کر دو ، کردار اور گفتار بدل دو،لوٹ آئو، لوٹ آئو !ورنہ ایک ایسا طوفان آنے والا ہے جس کی زد میں آکر کوئی نہیں بچ سکتا۔ عقل مند لوگوں کی اصل بہادری یہی ہے کہ وہ اپنی خطا ولغزش تسلیم کر کے واحدا لقہار کے سامنے اپنے ہتھیار ڈال دیں۔ اس لحاظ سے وادی کشمیر کے لوگوں سے میری دردمندانہ اپیل ہے کہ جلد از جلد اپنی اَنا چھوڑ کر، اپنی من مانی ترک کر کے، ایک مالک کے حکم کی تعمیل کریں تاکہ پھر سے ان کے لیے آفات وبلیات کا دروازہ نہ کھل پائے ،یہ میری عاجزانہ گزارش ہے  ع
 شاید کہ ُاترجائے تیرے دل میں میری بات

Friday, 2 January 2015

پرانی یادیں اور نئی تیاریاں؟

٭ابراہیم جمال بٹ
.....................

نئے ہجری سال کے بعد اب ایک اور عیسوی سال کی کرنیں نمودار ہوئیں۔ سالِ ماضی جس میں ہم نے بہت سے اُتار چڑھائو دیکھے۔ کہیں پر امن دیکھا تو کہیں بارود کی بو محسوس کی، کہیں خوشیاں دیکھیں تو کہیں غم کے بادل ہی بادل نظر آئے۔ غرض سالِ ماضی بھی بدستور اپنی فطرت پر قائم رہ کر ہر چیز کو سامنے رکھئے ہوئے انسان کو ماضی سے مستقبل کی طرف دھکیل کر آخر کار رخصت ہوا مگر پنے پیچھے ایک تاریخ رقم کر کے انسان کے لیے نصیحت وعبرت کے نشان چھوڑ گیا۔ 
عالمی حالات پر ایک سرسری جائزہ لیا جائے تو یہی کچھ معلوم ہوتا ہے کہ سالِ ماضی بنی نوع انسان کے لیے ایک پیغام چھوڑ گیا…اور وہ پیغام کسی خاص ذات کے لیے نہیں بلکہ عام انسانیت کے نام چھوڑ گیا ہے۔ پیغامات جب بھی بھیجے جاتے ہیں تو ایک عام انسان کے ساتھ ساتھ خاص لوگ بھی اسے دلچسپی کے ساتھ پڑھتے اور سنتے ہیں، بلکہ جس قدر پیغام دینے والا اہم ہو اس کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس پر سوچ سمجھ کرکسی حد تک غور بھی کیا جاتا ہے۔ انسانیت کے نام سالِ ماضی کا پیغام شاید اس سے زیادہ کچھ نہ تھا کہ ’’آئے تھے ہم اِک خوشی کا سامان لیکر اور گئے تو دیکھا غم کی بارش میں تم ہو ڈوبے ہوئے‘‘ چنانچہ سال ماضی ایک عبرت بھرا پیغام ہے انسانیت کے نام… انسان جس نے اپنی فطرت کے خلاف بدستور جنگ چھیڑرکھی ہے… اس کی طرف سے مسلسل اپنی اس غیر فطری جنگ میں شدت ہی لائی جا رہی ہے… غرض پوری دنیا جسے خالق کائنات نے امن کا گہوارہ بنا دیا تھا، جس کی فطرت عدل وقسط پر مبنی تھی، اس دنیا میں جب انسان کو بھیجا گیا تو اس کے بارے میں کہا گیا ’’ کہ انسان کی پیدائش فطرت پر ہوئی ہے‘‘… فطرت امن ہے نہ کہ بد امنی… جب بھی دنیا میں بدامنی یا فساد کا بازار گرم ہوا تو وہ انسان ہی کے ہاتھوں کی کمائی تھی… ’’ظہر الفساد فی البر والبھر بما کسبت ایدی الناس‘‘ ۔ 
’’عقل کا فلسفہ، پیغام اور درس ہے کہ خوش رہو، آباد رہو …’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘ عیش وعشرت اور نازونعم سے زندگی گزارو۔ بس یہی دنیا ہے موت کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے۔ ‘‘ بس یہی وہ چیز ہے جس نے انسان کو عیش کوش بنا ڈالا جس سے اس کی پوری زندگی میں فساد رونما ہوا کیوں کہ اس کی فطرت میں عیش کوشی نہیں تھی بلکہ اس میں عشق کا پیغام تھا کہ شعور کی بیداری کے ساتھ آئو ، خالق کائنات کی بندگی کا راستہ اور طریقہ اختیار کرو اور تمام ان چیزوں سے نہ صرف پرہیز بلکہ مقابلہ بھی کرو جو فطرت کے خلاف ہوں۔آزادی جس کے ساتھ تمہیں پیدا کیا گیا ہے ،آزاد رہ کر زندگی گزارو۔ اصل خوشی اور آزادی یہی ہے کہ تم فطرت پر قائم رہو۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’انسان فطرت میں آزاد تھا لیکن اب نسل در نسل غلام… غلامی کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے… جس آزادی سے پیدا کیا گیا تھا اس کا تصور بھی اس کے لیے حرام۔ پیٹ کے بندے اور پیٹ کے غلام۔ ان کو چاہیے صرف اور صرف روٹی کپڑا اور مکان۔ بہر حال یہ آرزو ہے خام… بلند اور ارفع فطری آزادی کا پیغام… زندگی کا مقدس مقام، فطری آزادی کی زندگی کا ایک لمحہ اور غلامی کی زندگی کا دوام۔ غلام انسان کو اس کی ہے بہت کم پہچان… جس کی وجہ سے پوری دنیا میں ہو رہا ہے بدامنی میں ہمارا بڑا مقام۔‘‘ 
بہر حال سالِ ماضی نے درس عبرت دے کر پھر سے ایک یاد تازہ کر دی کہ اے انسان! تو ہو جا بیدار! اپنی فطرت کا خیال کر! اور فطرت پے قائم ہو کر دنیا میں حاصل کر وہ مقام جس کی بابت تجھے کیا پیدا خالق کائنات نے۔ شر وفساد کے پھیلائو کو روکنے، ظلم واستحصال کے خلاف اُٹھنے، بدیوں کے مقابلے میں اچھائیوں کو پھیلانے کا کام ہاتھ میں لے کر اٹھ اور اپنی فطرت کاوہ نمونہ دکھا جس سے پوری بنی نوع انسان باخبر ہو جائے کہ اصل فطرت اور اصل آزادی کا تصور کیا ہے؟ 
ہر نیا سال انسان کے لیے ایک نیا میقات لے کر آتا ہے اس سال کا میقات سالِ ماضی کو دیکھ کر عبرت و نصیحت حاصل کرنی ہے… کیا کھویا اور کیا پایا… ؟اس پر غور کرنا ہے… کہاں جکے، کہاں بکے…؟ کہاں مرے ، کہا جئے… ؟ کیا کیا اور کیا کرنا تھا…؟ ان سب پر غور کرنا ہو گا، سوچ سمجھ کر ،صحیح راستہ اختیار کر کے اس نئے سال میں نئی شروعات کرنی ہے،یہی سالِ نو کا پیغام ہے اور یہی انسانی فلاح وکامیابی کا زینہ ہے۔ 
اگر اس نئے میقات میں انسان نے وہی کچھ کیا جو سال ماضی میں کرتے رہے،تو نہ جانے آگے جاکر ہمارا کیا حال ہو گا…؟ لیکن خالق کائنات نے اس بارے میں صاف کر دیا ہے کہ انسان نے اگر ظلم کی روش پر اپنی زندگی گزاری تو عنقریب وہ وقت آئے گا جب ـ:
’’اور ذرا اُس وقت کا خیال کرو جب اللہ کے یہ دشمن (ظلم کرنے والے) دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لائے جائیں گے اُن کے اگلوں کو پچھلوں کے آنے تک روک رکھا جائے گا۔ پھر جب سب وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم کی کھالیں ان پر گواہی دیں گی کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔وہ اپنے جسم کی کھالوں سے کہیں گے تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟وہ جواب دیں گی :ہمیں اُسی خدا نے گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویا کر دیا ہے، اُسی نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور اب اُسی کی طرف تم واپس لائے جا رہے ہو۔ تم دنیا میں جرائم کرتے وقت جب چھپتے تھے تو تمہیں یہ خیال نہ تھا کہ کبھی تمہارے اپنے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے جسم کی کھالیں تم پر گواہی دیں گی بلکہ تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ تمہارے بہت سے اعمال کی اللہ کو بھی خبر نہیں ہے۔ تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا تھا، تمہیں لے ڈوبا اور اسی کی بدولت تم خسارے میں پڑ گئے۔ اس حالت میں وہ صبر کریں (یا نہ کریں) آگ ہی ان کا ٹھکانا ہو گی، اور اگر رجوع کا موقع چاہیں گے تو کوئی موقع انہیں نہ دیا جائے گا ۔ ہم نے ان پر ایسے ساتھی مسلط کر دیے تھے جو انہیں آگے اور پیچھے ہر چیز خوشنما بنا کر دکھاتے تھے، آخر کار اُن پر بھی وہی فیصلہ عذاب چسپاں ہو کر رہا جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جنوں اور انسانوں کے گروہوں پر چسپاں ہو چکا تھا، یقیناً وہ خسارے میں رہ جانے والے تھے ۔‘‘(حٰمٓ سجدہ)
سال نو کی آمد مبارک ہو مگر یہ دیکھنا ضروری ہے کہ سالِ ماضی کا کیا پیغام ہے…؟ ’’ بنی نوع انسان کو پیام اور پیغام دیا جاچکا ہے اور آج کے دور اور ابتدائے آفرینش سے جب جب انسان اس اِلٰہی اور ابدی ہدایت کے راستے سے منحرف ہوا ہے وہ اپنے لئے بھی اور پوری انسانیت کے لئے بھی تباہی اور بربادی کا سبب بنا ہے۔… انسان کا اصل کام اور مقام یہ ہے کہ وہ آنکھیں کھول کر حق کو دیکھے، یہی اُس کی بندگی کا تقاضا اور مطالبہ ہے۔ اپنے آپ کو پہچاننا اور کسی چیز کو اس پہچان میں حائل نہ ہونے دینا، اصل زندگی ہے۔ جب آج کا بندہ زندگی کے حقائق کو پہچانتا اور بندگی کے فرائض انجام دیکر اس کو زینت بخشتا ہے تو خود باری تعالیٰ اس بندے پر رحمت برساتا اور اُس کو اپنی عنایات اور نوازشات سے نوازتا ہے۔ ٭٭٭٭


Sunday, 30 November 2014

آفاتِ سماوی بنام عوام الناس

٭ابراہیم جمال بٹ......................
ماہ ستمبر ۲۰۱۴؁ء کو جب میں نے اپنا جلوہ دکھایا تو لوگ یا تو مجھے مذاق تصور کرتے تھے یا اپنے گھمنڈ اور غرور کے شکار ہو کر اپنی ہی من مانیوں میں مست تھے، ایسے میں جب میں نے اپنا سخت اور تاریخ ساز جلوہ دکھایا تو ڈر کے مارے لوگ یا تو بھاگ گئے یا اپنے مال و جائداد کی محبت میں اپنے ہی گھروں میں ٹکے رہے، اور پھر جب میں چڑھتا ہی گیا تولوگ بھاگنے کا راستہ بھی نہ پائے۔ دراصل میرا ایک اصول ہے وہ یہ کہ میں آنے سے قبل ’’باخبر‘‘ نہیں کرتا ، میری آمد ایک اشارے کی محتاج ہوتی ہے اور جوں ہی مجھے اشارہ مل جاتا ہے اُسی دم میری آمد آمد ہو جاتی ہے۔ لیکن یاد رہے میری آمد یوں ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے ایک راز چھپا ہوتا ہے جس کو جاننے کے لیے انسان کے پاس چابی مہیا رکھی گئی ہے۔ وہ جب چاہے یہ راز کھول کر اپنی جگہ معلوم کر سکتا ہے کہ ’’میری آمد کی آخر وجہ کیا تھی۔‘‘ گزشتہ ماہ کی پہلی دہائی میں جب میں نے اپنی آمد کا اشارہ دیا تو وادی کے لوگ معمول کے مطابق اپنی زندگی جی رہے تھے، کوئی کاروبار میں مست تھا تو کوئی ملازمت کی ذمہ داری میں محو، سکولی بچے امتحانات کی تیاری کر رہے تھے اور کئی لوگ شادیوں کی تیاریوں میں بھی مست تھے، ایک طرف لوگ فصلوں کی تیاری دیکھ کر کٹائی وغیرہ کی سوچ رہے تھے تو دوسری جانب لوگ سردی کے موسم کے لیے انتظامات میں لگے ہوئے تھے… اچانک میرا اشارہ محسوس کیا گیا… لوگ آپس میں چہ میگوئیاں ہی کر رہے تھے کہ میں نے نہ آئو دیکھا اور نہ ہی تائو ،بس چڑھ گیا، جہاں اشارہ مل چکا تھا وہاں کی راہ لی،اور چڑھتا ہی گیا، لوگ دوسری سے تیسری اور تیسری سے چوتھی منزل کی جانب سفر کرتے رہے، لوگ بھاگتے گئے اور میں برابر پیچھا کرنے میں مست تھا۔ یہ میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں ، بلکہ حکم کی تعمیل تھی، جس حکم کی تعمیل کے آگے کسی اور کا حکم مجھ پر نہیں چلتا… مجھے حکم ملا اور میں نے ’’آمنا واطعنا ‘‘کہہ کر سرتسلیم خم کر دیا۔ جب میں آیا تو وادی کشمیر میں اس سے قبل کی حالت اور تھی اور اب میرے لوٹ جانے کے بعد حالت کچھ اور ہی ہے۔ میرے آنے سے قبل وادیٔ کشمیر کے بازار کس طرح چمک دمک رہے تھے یہ سب کو معلوم ہے اور آج بازاروں اور اس میں تجارت پیشہ دکانداروں وغیرہ کی حالت کیا ہے اس سے بھی آپ بخوبی واقف ہیں۔ جہاں دکانوں سے خوشبو آرہی تھی آج ایک عام انسان وہاں سے گزر کر اپنی ناک پر رومال رکھ کر چل رہا ہے، گویا خوشبو بدبو میں تبدیل ہو گئی۔ شاید اسی کا نام دنیا ہے، شاید دنیا کی اصل حقیقت یہی ہے۔ بہر حال میری آمد تو ہوئی اور آخر کار میرا ہاتھ اور میرے پیر رُک گئے، مجھے بھی آخر کار رُکنا پڑا… اپنی مرضی سے نہیں بلکہ پہلے ایک حکم نامہ ملا اور میں چڑھ دوڑا اور اب پھر حکم ملا تو میں مکمل طور سے رُک گیا۔ لیکن اس بیچ کیا سے کیا ہو گیا… اس کا اندازہ بھی لوگوںکو نہیں تھا۔ اب جو ہوا سو ہوا، ہونی کو کون ٹال سکتا ہے، لیکن کیا اسی پر بس کیا جائے یا اس پر سوچ کر کچھ کیا جانا چاہیے۔ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ جب بھی اسے کسی مشکل حالت کا سامنا پڑتا ہے تو وہ پہلے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتا ہے، جب مشکلات کے بھنور میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے تو کئی لوگ اپنی ہار تسلیم کر کے ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔ اس وقت یہ ہتھیار ڈال دینا انسان کے لیے فائدہ مند مانا جاتا ہے۔ کیوں کہ جس قدر جو طاقت ہو اسی کے لحاظ سے انسانی ردعمل کا اظہار ہوتا ہے۔ وادی کے لوگوں پر جب مجھے بھیجا گیا تو پہلے پہل لوگوں نے یہی طریقہ اختیار کیا، انہوں نے اپنے گھروں میں رہ کر ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ٹھان لی لیکن جب پانی سر سے اُوپر ہو گیا تو لوگوں کی عقلمندی اسی میں تھی کہ وہ ہتھیار ڈال دیتے، لیکن کیا کیا جائے کہ اکثر لوگ اب بھی ہتھیار ڈالنے کی نہیں سوچ رہے ہیں۔ اپنی من مانیاں کرنے میں ہی مست ہیں۔ یہ صرف اس وجہ سے کہ شاید وہ سوچ رہے ہیں کہ یہ ایک عارضی معاملہ تھا سو معاملہ اب ٹل گیا، جان بچ گئی، اب پھر شروع کریں گے۔ لیکن ان کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ جس حکم کی تعمیل میں میں نے یہ سخت ترین جلوہ دکھایا وہ پھر واپس بھی لوٹے گا، اسی کا حکم ایک بار پھر آسکتاہے، ایک بار پھر میری آمد دوسرے طریقوں سے ہو سکتی ہے، اس وقت میرا مزاج کیا ہو گا اس کا اندازہ کرنا ہی مشکل ہے، اس وقت یہ ہتھیار نہ ڈالنے والے وادی کشمیر کے لوگ مشکلات کے بھنور میں پھنس جائیں گے، آج اگرچہ ایک موقعہ مل چکا ہے ،یہ ضروری نہیں اس وقت پھر سے موقعہ مل جائے۔ تو یہ ایک مہلت تھی جو تم لوگوں کو دی گئی، اب اگر اس مہلت میں بھی من مانیاں جاری رکھ کر حاکم کے آگے ہتھیار نہ ڈالے تو نہ جانے آنے والا کل ہمارا کیسا ہو گا۔ وہ کل جس کے متعلق اب افواہوں کی صورت میں آئے روز اخباروں میں شائع ہورہاہے کہ ’’عنقریب ایک زلزلہ آئے گا جس میں جانی ومالی نقصان کا بھاری خدشہ ہے۔‘‘ غرض یہ ہے کہ ہتھیار ڈال دیا جائے، اپنی من مانیاں ترک کی جائیں اور جس نے مجھے آپ پر چڑھنے کا حکم دے کر پھر ایک موقعہ عنایت فرمایا اس کے آگے سرتسلیم خم کر دیا جائے۔ یہی ایک راستہ ہے جس راستے پر چل کر ہماری آنے والی مشکلات کا ازالہ ممکن ہے۔ ورنہ یوں ہی اگر زندگی من مانیوں کی پٹری پر چلتی رہی تو وہ دن دور نہیں جب میرا جلوہ اس قدر سخت ترین ہو گا کہ نہ تم رہو گے اور نہ ہی تمہاری یہ من مانیاں۔ لوٹ آئو، لوٹ آئو !ورنہ ایک ایسا طوفان آنے والا ہے جس کی زد میں آکر کوئی نہیں بچ سکتا۔ مصیبت ٹال کر یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم پست ہو گئے بلکہ عقلمندی یہی ہے اور عقل مند لوگوں کی   اصل بہادری یہی ہے کہ وہ اپنی خطا تسلیم کر کے ہتھیار ڈال دیں۔ اس لحاظ سے وادی کشمیر کے لوگوں سے میری دردمندانہ اپیل اور گزارش ہے کہ وہ جلد از جلد اپنی ’’اَنا‘‘ کو چھوڑ کر، اپنی من مانی زندگی کو ترک کر کے، ایک مالک کے حکم کی تعمیل کریں تاکہ پھر سے ہمارے لیے آفات کا دروازہ نہ کھل پائے۔ میری گزارش بس ایک امید پر ہے کہ شاید آپ سمجھ جائیں۔ باقی والسلام          ٭٭٭٭٭

Tuesday, 21 October 2014

کمر ٹوٹی پر کیا دل بھی ٹوٹا…؟

(ابو محمد حمزہ…سرینگر) 
..................................


وادیٔ کشمیر کے عزیزو!حالیہ سیلاب نے کس قدر ہماری کمر توڑ ڈالی اس کا اندازہ کرنا اگرچہ بہت مشکل ہے تاہم ایک سرسری نگاہ ڈالنے سے ہی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ سیلاب سیلاب نہیں بلکہ ایک ایسا طوفان تھا جس نے بستیوں کی بستیاں اُجاڑ کر رکھ دیں، بے شمار علاقوں کوزمین بوس کر دیا، کئی مقامات پر اس قدر جانی نقصان ہوا کہ جس کی تلافی ناممکن ہے، جانی نقصان کے ساتھ تجارت سے وابستہ لوگوں کی مالیات کانظام اس قدر متاثر ہوا کہ شاید برسوں لگ جائیں گے اُسے پھر سے حاصل کرنے میں۔ لاکھوں نہیں، کروڑوں نہیںبلکہ اربوں اورکھربوں کی مالیت کا نقصان ہوا، سب کچھ ملیا میٹ ہو گیا، پانی کے اس طوفانی ریلے نے اس قدر اچانک تباہی مچا دی کہ کئی لوگ آج آنکھیں موندھ رہے ہیں کہ شاید یہ کوئی خواب تھا… پر کیا کریں یہ خواب نہیں ایک زندہ حقیقت ہے، آنکھیں موندھ لینے سے حقیقت خواب میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔ یہ ایسا طوفان تھا جس سے یہ بات عیاں ہو کر سامنے آگئی کہ جب خدا کی مار پڑتی ہے تو اس طرح پڑتی ہے کہ پتا ہی نہیں چلتا کہ کہاں سے پڑی؟ خدا کا غضب ہو یا خدا کی طرف سے آزمائش، یہ دونوں صورتیں اچانک اپنا جلوہ دکھاتی ہیں۔ یہ سیلابی طوفان جس نے وادیٔ کشمیر کو اپنی گرفت میں لے لیا، ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ طوفان خدا کا غضب تھا یا آزمائش… لیکن اگر خود کو اپنی اپنی جگہ جانچ لیں تو ضرور معلوم ہو گا کہ یہ کیا کچھ تھا…؟ 
وادیٔ کشمیر کی بہنو اور بھائیو! خدا کی طرف سے بھیجا گیا یہ سیلابی طوفان اب جو کچھ بھی تھا … آگیا، لیکن اس طوفان سے ہم نے دیکھا کہ اس نے وہاں وہاں قدم ڈالے جہاں کے ساکنین اس کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے، جہاں کے لوگوں کو خیال تھا کہ ’’ہم وہاں رہ رہے ہیں جہاں ایسے طوفانوں کا سایہ بھی نہیں پڑ سکتا‘‘ اس طوفان نے نہ آئو دیکھا نہ تائو، جہاں جی چاہا گھس آیا، جسے مٹانا چاہامٹا دیا، جس رکھنا چاہا اسے اس طرح محفوظ رکھا کہ لوگ دیکھتے ہی رہ گئے۔ مجموعی طور سے یہ سیلابی ریلا ایک عبرت ناک اور وحشت ناک منظر تھا، اس ریلے نے ایک طرف جانی نقصان کا نظارہ کرایا تو دوسری جانب مالی نقصان سے اس قدر دوچار کرایا کہ عمر بھر کی کمائی یکدم خاک میں ملا دی۔ اس کی مار نے نہ گائوں دیکھا اور نہ ہی شہر … نہ اسلام آباد وکولگام دیکھا نہ شہر سرینگر کا دل لال چوک ، نہ ہی کرن نگر دیکھا اورنہ ہی بمنہ بلکہ جہاں جہاں اس سیلابی ریلے کو اجازت ملی تھی اس نے وہاں گھس کر تباہی مچا دی۔ 
میرے عزیزو! طوفان آیا اور اب لگ بھگ ایک مہینہ گزرنے کے بعد تھم گیا، اس طوفان نے کیا کچھ دیا اور کیا کچھ لیا اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے لیکن میرے عزیزو! یہ جان لینا چاہیے کہ یہ طوفان طوفان نہیں بلکہ ایک قیامت تھی، قیامت کا ایک ایسا منظر تھا جب النفسی النفسی کا عالم ہو گا، جب لوگ بھاگنے کی کوشش کریں گے لیکن وہ دن ایسا ہو گا کہ اس کا بھاگنا کوئی فائدہ نہیں دے سکتا، اس کو گھیر لیا جائے گا، اس پر اس قدر گھیرائو کیا جائے گا کہ بھاگنے کی سوچ بھی لے تو بھی نہیں بھاگ سکتا اور اگر بھاگ بھی جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ یہ سیلابی طوفان جب آیا اس نے بھاگنے کا موقع بھی نہیں دیا، اس قدر چڑھا کہ یکدم منزلوں کی منزلیں پانی میں گم ہو گئیں۔جہاں لوگوں کے مسکن تھے وہاں پانی ہی پانی نظر آرہا تھا، چھتوں کے اوپر سے کشتیوں میں درماندہ لوگ سفر کر رہے تھے۔ لوگوں کی تین تین منزلہ عمارتیں بھی کم پڑ گئیں۔ 
وادیٔ کشمیر کی بہنو اور بھائیو! ہم نے اس سیلابی سفر کا نظارہ کر لیا، اس کا مشاہدہ ہو چکا، اس کے خطرات سے ہم فی الحال نکل چکے، اس کی تباہی دیکھ چکے۔ اب ہماری سوچ کیا کچھ کہتی ہے؟ کیا یہ طوفانی ریلا آزمائش تھی یا خدا کا غضب اور عذاب…؟ عزیزو! کیا ہم نے اس پر غور کیا ہے؟ یا پھر اسی طرح دن گزار رہے ہیں جس طرح اس سے قبل کی زندگی گزر رہی تھی۔ کیا ہم نے اپنے نفس کا خود ہی جائزہ لیا؟ کہ یہ طوفان عذاب تھا یا آزمائش؟ اگر آزمائش تھی تو اس کا ثمر ’’زاد ایمانھم‘‘ ہے اور اگر عذاب تھا تو ہم نے اپنی تبدیلی کا کیا کچھ سوچا ہے؟ کہیں ایسا نہ کہ ہم پھر سے گھیر لیے جائیں… کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم کو پھر اس طرح کے مناظر دیکھنا پڑھیں… مشہور مقولہ ہے کہ ’’اپنا حساب لو قبل اس کے کہ آپ کا حساب لیا جائے‘‘۔ میرے بھائیو! حساب و جائزہ کا وقت آگیا ہے۔ 
اس طوفان نے ہماری کمر توڑ ڈالی لیکن ہمارا دل ابھی بھی ویسا ہی ہے جیسا اس سے قبل تھا؟ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ ’’کمر ٹوٹی مگر دل نہ ٹوٹا‘‘ کہیں یہ سچ تو نہیں؟ اگر اس سیلابی طوفان سے ہماری کمر کے ساتھ ساتھ دل بھی ٹوٹ چکے ہیں تو تبدیلی آنی ضروری ہے، تبدیلی آئے گی تو خدا کا یہ ایک اور موقعہ ہم کو اپنی منزل پانے کا ایک ذریعہ بن جائے گا اور اگر زندگی برابر اسی نہج پر چلتی رہے جس پر اس سے قبل چل رہی تھی تو خدا کا یہ دیا ہوا ایک اور موقعہ شائد ہماری مکمل تباہی و خسرانِ دارین کا موجب بن جائے گا۔ 
یاد رکھئے جب ایسے مناظر پیش آتے ہیں تو کوئی کسی کا اصل مدد گار نہیں بنتا، سب اپنی اپنی راہ چلتے دکھائی دیتے ہیں، خدا کی دی ہوئی یہ زندگی جو اب بھی باقی ہے… شائد ایک اور موقعہ عنایت فرمایا گیا ہے، ہمیں اس کا فائدہ اُٹھانا چاہیے، اس ایک موقعے کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہو گا کہ ہم پلٹ کر اپنے وجود کا حساب لیں، ہم وہ سب کچھ چھوڑ دیں جس کی پاداش میں ہمیں اس طوفان نے آگھیر لیا… جس کی وجہ سے ہم کو برسوں کی کمائی کا خسارہ دیکھنا پڑا۔ 
خیالی باغ دکھانے والے ہم کو اس طوفان میں اکیلے چھوڑ گئے… کوئی حامی ومددگار نہیں دکھائی دیا… ہم سب نے جو کچھ کیا بس وہی کچھ تھا… باقی خواب دکھانے والے لوگ یا تو خود بھاگ گئے یا اس قدر خاموش رہے کہ جیسے کچھ ہو ہی نہیں رہا تھا۔ بھانت بھانت کی بھولیاں بھولنے والے لوگ اپنی کرسیاں اور اپنا الو سیدھا کرنے اب ہمارے شہروں، علاقوں اور گھروں کا رخ کر رہے ہیں، کہیں نامنہاد ریلیف کے نام پر تو کہیں چادر اور چاول وغیرہ کے نام پر۔ لیکن ان کا اصل مقصد کیا کچھ ہے اس کا اندازہ شائد ہم کو ہو گیا ہو گا۔ جب ہم گرفتارِ طوفان تھے تو نظر نہیں آئے اور اب جب ہم کو ایک اور مہلت نصیب ہوئی تو دور سے ہمیں زندہ دیکھ کر واپس ہماری طرف آئے… ا س طرح آئے کہ جیسے کہ وہ سچ مچ ہمارے مسیحا ، حامی ومددگار ہوں، لیکن حقیقت پر سے پردہ نہیں ہٹایا جا سکتا، وہ لوگ کس قدر بے وقوف اور نادان ہوں گے جو اب بھی ان کی شاطرانہ چالوں کا شکار ہو کر اپنی زندگی کو خطرات کے بھنور میں دکھیل دیں۔ یہ نادانی ہی نہیں بلکہ مستقل خسران اور تباہی کا نظارہ ہو گا۔ 
میرے عزیزو!ہم میں تبدیلی ضروری ہے، تبدیلی ایسی کہ دوبارہ ایسی جان لیوا صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ہماری زندگی گزارنے کی سوچ بدل جانی چاہیے۔ ہمارا رہن سہن، ہماری تجارت، ہماری تعلیم وتعلم، ہماری سیاست ومعیشت، ہمارا چلنا پھرنا، ہمارا ایک ایک لمحہ گزارنا، اس سب میں تبدیلی ضروری ہے۔ 
میرے بھائیو اور عزیز بہنو! ہمیں دل کا جائزہ لے کر ،اپنے اعمال کا حساب لے کر، ایک ایسا طریقہ اختیار کرنا ہے جس میں فلاح وکامیابی ہو، جس میں دارین کی خوشیاں ہوں، جس میں ترقی اورامن وسکون ہو۔ 
یہ ایک درد بھری پکارہے ، اس پکار کو کوئی تحریر نہ سمجھ لیں بلکہ یہ پکار دل کی ایک آواز ہے، ایک بد نصیب کی زبان ہے، جس نے سمجھ لیا ہے کہ یہ طوفان اس کے لیے ایک عذاب تھا نہ آزمائش۔ اُٹھئے اور خود کا جائزہ خود ہی لیجئے، اپنا مفتی آپ بنئے، اپنے طور طریقے کے انداز کو خود دیکھئے اور جاننے کی کوشش کیجئے کہ ہم کو کس نے گھیر لیا ،کیوں گھیر لیا؟ اور اب کیوں ایک اور مہلت دی گئی۔ ؟؟؟اللہ ہمارا حامی وناصر ہو،آمین۔ 
///……///

……………………

Monday, 23 June 2014

قلت وکثرت ایک لاحاصل بحث

٭ابراہیم جمال بٹ
....................


تاریخ اس بات پرگواہ ہے کہ دنیا میں جہاں بھی کوئی انقلاب آیا اس کااکثریت کے بجائے اقلیت نے ہی ساتھ دیاہے۔ ہر دور میں کسی نہ کسی سطح کے انقلابات آئے ، جن میں کئی عوامی انقلابات تھے اور کئی سیاسی سطح کے انقلابات، کہیں اصلاحی تحریکوں نے اصلاحی انقلاب لائے تو کہیں سماجی، سیاسی، معاشی اور اسی طرح دیگر انقلابات لائے گئے، غرض جس قسم کا بھی انقلاب آیا، اس کے لانے والے اکثریت میں نہیں اقلیت میں رہے ہیں۔ حتیٰ کہ اکثر مذہبی انقلابات بھی اقلیت میں شمار لوگوں نے لائے بلکہ وہ بھی ایک قلیل تعداد کی وجہ سے ہے لائے جا چکے ہیں۔ چنانچہ اس تناظر میں آج کے حالات پر غور کیا جائے تو دنیا میں فی الوقت کئی ایسی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جن سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ آئندہ اس دنیا میں ایک ایسے انقلاب کی خاموش آواز سنائی دے رہی ہے جس سے پوری دنیا میں ایک تبدیلی رونما ہو گی۔ اس قدر تبدیلی کہ دنیا میں بسنے والے لوگ اس انقلاب کے بیچوں بیچ اپنے آپ کو پُر سکون محسوس کریں گے۔ اس کی صدائیں آج پوری دنیا سے آرہی ہیں، یہ انقلاب آئے گا لیکن اس انقلاب کو لانے والا نہ تو کوئی خاص قوم ہو گی اور نہ ہی کوئی خاص ذات، بلکہ اس انقلاب کولانے والا دنیا کی ایک قلیل تعداد ہو گی، جس سے تاریخ کے اوراق پر ایک بار پھر سنت الٰہی کا وہ قاعدہ سامنے آئے گا کہ ایک چھوٹی سے جماعت پوری قوم، انسانیت، اور دنیا میں بسنے والے لوگوں کے لیے باعث ِفخر ،امن وسکون کا موجب قرار پائے گا۔ یہ چھوٹی موٹی جماعت جس کی افرادی قوت اگرچہ مخصوص اور قلیل تعداد ہو گی، تاہم ان میں ایسا ولولہ اور جزبہ ہو گا جو قلت کے باوجود اکثریت پر غالب ہو کر انقلاب کا باعث بن جائیں گے۔ سابقہ تواریخ کی ورق گردانی بھی کریں تو یہی کچھ سمجھ آتا ہے کہ انقلاب کثرت (Quantity) نہیں بلکہ (Quality)چاہتی ہے اور جب بھی کوئی انقلاب آیا تو اسی اصول پر آیا۔ غرض آج جس انقلاب کی باتیں ہو رہی ہیں وہ تو دیر سویر آکر ہی رہے گا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس میں ہمارا کس قدر حصہ ہو گا۔ لہٰذا اس کے لیے ہمیں سب سے پہلے انقلابی صفات پیدا کر کے، اپنے اندر ولولہ وجذبہ ٔانقلاب پیدا کرنے کی ضرورت ہے، اور یہ ولولہ اور جذبۂ انقلاب کوئی ایسی چیز نہیں کہ انسان چاہے تو حاصل کر سکتا ہے،بلکہ اس جذبہ اور ولولہ کے لیے ایک سہارے کی ضرورت پڑتی ہے اور وہ سہارا ہے خدائے ذوالجلال۔ خدا کا فضل ۔ انسان کی کوشش اور مسلسل استقامت کے ساتھ اللہ کی تائید و نصرت کا خیال کرتے ہوئے انقلاب کی خواہش رکھنا ہی انقلاب برپا ہونے کی دلیل ہے۔ آج جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں وہاں بہت سارے لوگ جو اپنے آپ کو ’’داعیٔ انقلاب‘‘ کے طور پر جانے جاتے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ انقلاب ایک ایسی شئے ہے کہ ایک بڑی تعداد کو  جمع کر کے انقلاب لایا جا سکتا ہے، لیکن ان کی یہ سوچ تب تک ’’خیالی سوچ ‘‘ہی کہلائے گی جب تک نہ ان کے اندر اس بات پر ایمان مستحکم ہو جائے کہ’’ انقلاب میں قلیل و کثیر کی کوئی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ قلیل ہی اکثر و بیشتر کثرت پر غالب ہو کر اس کے باعث بن چکے ہیں‘‘ حق اور ناحق کا فیصلہ کرنا ہو تو یہ ضروری نہیں کہ اکثریت جس طرف ہو، وہی حق اور قلت جس جانب ہو گی وہی ناحق کہلائیں گے بلکہ تاریخ ِاسلامیہ میں یہ رقم طراز ہے کہ میدان اُحدمیں جب جیت مسلمانوں کی ہو رہی تھی تو صحیح اور غلط میں تمیز کرنا خدائے ذوالجلال کا اصل منشا ء تھا، قلت وکثرت کی عمومی سوچ پر ضرب لگانی مقصود تھی، کہ جس مختصر سی جماعت کو جو غالباً چالیس صحابیوں سے زیادہ نہ تھے کو ایک درّے پر رکھ دیا گیا، جنہیں حکم دیا گیا تھا کہ جو کچھ بھی جنگ کا فیصلہ ہو ، اس درّے سے نہ ہٹنا، اورجب مسلمانوں نے کفار کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور وہ پیٹھ پیچھے بھاگتے نظر آئے ، تو اس درّے پر یہ جانثار صحابی جنہیں اللہ کے آخری ومکمل پیغمبر حضرت محمد مصطفی ﷺنے اس درے سے کسی بھی حالت میں نہ ہٹنے کا حکم دیا تھا جب انہی میں سے ایک بڑی تعداد (غالباً 40میں سے30) نے اس درّے سے ہٹتے ہوئے مالِ غنیمت وغیرہ جمع کرنا شروع کیا تو جنگ کی دوسری ہی حالت سامنے آئی۔ جس درّے پر چالیس مسلمانوں کا پہرا تھا اس پر اب چند گنے چنے مسلمانوں ہی رہے… جیت کے اس لمحہ میں جنگ کے دوران ایسا پلٹ وار ہوا کہ بے شمار مسلمان شہید ہو گئے… لیکن اس قلیل اور کثیر کے فیصلے پر ایک ضرب لگانی تھی سو اللہ تبارک وتعالیٰ نے پیغمبرِ اسلامﷺ کے ذریعے سے مسلمانوں تک یہ پیغام پہنچا دیا کہ جو قلیل تعداد ہونے کے باوجود، جیت کا سماں دیکھتے ہوئے بھی درّے پر ہی برابر کھڑے رہے، اگرچہ ان کی تعداد میں اب تین حصے کم ہو گئے تھے، وہی اس وقت صحیح تھے بجائے کثیر تعداد کے۔ غرض اس دنیا میں جب بھی کوئی انقلاب آیا تو اس انقلاب میں قلیل وکثیر بحث ایک لاحاصل عمل رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے جو تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی ہوئی ہے کہ انقلاب کثرت تعداد نہیں بلکہ خصوصیات کے حامل لوگوں کو دیکھتی ہے۔ آج بھی اگر ہم دیکھیں تو کئی لوگ اسی زعم میں مبتلا ہیں کہ ایک بڑی تعداد جمع کی جائے تاکہ ایک انقلاب لایا جائے لیکن ان کے سامنے اسلامی تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں کہ انقلاب ہمیشہ انقلابی لوگوں نے لائے ہیں اور وہ لوگ اکثر وبیشتر قلیل ہی ہوتے آرہے ہیں۔ چنانچہ ان حالات میں عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو یہی کچھ سامنے آرہا ہے کہ جہاں بھی کوئی اصل تبدیلی آئی اس کے پیچھے مخصوص اور محدود صالح عنصر کارفرما تھا ۔ آج دنیا کے جس کونے میں بھی دیکھیں تو بظاہر بے شمار تبدیلیوں کے اشارے مل رہے ہیں لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ جن سے تبدیلیوں کا اشارہ مل رہا ہے ان کا بھی یہی ذہن بن چکا ہے کہ جب تک نہ افرادی قوت میں اضافہ ہو جائے کوئی مضبوط اور مستحکم انقلاب نہیں لایا جا سکتا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم اسلامی تاریخ کا ہی مطالعہ غور سے کریں تو وہاں بھی یہی کچھ نظر آتا ہے کہ ایک طرف پوری عرب دنیا اور دوسری جانب مسلمانوں کی ایک قلیل تعداد ہے، لیکن اس کے باوجود بھی اسلامی انقلاب آیا … ایسا انقلاب کہ جس نے اپنے پیچھے آج تک اپنے وہی اثرات چھوڑے ہیں کہ آج بھی اسی انقلاب کی باتیں ہی نہیں بلکہ انتظار ہو رہا ہے۔ اس سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ اسلامی انقلاب کی آمد آمد کی جو آج کل باتیں ہو رہی ہیں، انشاء اللہ وہ اصل صورت میں آئے گا، لیکن اس کے لیے کسی ایسے خیال میں رہنا کہ جب لوگوں کی ایک جم غفیر جمع ہو گئی تو یہ انقلاب آئے گاایک لاحاصل سوچ ہے جس کا حاصل کچھ نہیں ہے۔ 
٭٭٭٭٭

روزہ کی غا یت اولیٰ .............انقلاب کے بد ن میں اصلا ح کی روح

٭ابراہیم جمال بٹ

....................


ہر سال کی طرح امسال بھی ایک بار پھر ماہ رمضان کی مبا رک دستک سنا ئی دے رہی ہے۔ اہل ایمان اس ماہ مقدس کے انتظار میں ہمیشہ بیتاب وبے قرار رہتے ہیں۔ یہ اسی مہینے کا ثمرہ ہے کہ گناہ گار انسان نہ صرف پچھلے تمام گناہوں کو سامنے لا کر ان کو خدا کے حضور معاف کرانے کے لئے اس کی چوکھٹ پر گویا دھرنا دے کر بیٹھتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ یہ با بر کت مہینہ ایک آئینہ ہے جو مومن اور مسلمان کے ظاہر وبا طن کی پہچان کراتا ہے کہ وہ اصلاً کیا ہے، کس حال میں ہے اور اس کی اصل کامیابی و ناکامی کن امور اور اعمال میں پنہا ں ہے۔ یہ اسے دیکھنے اور سنبھالنے کا سنہری موقع فراہم کرتا ہے کہ اس کو کہا ں کہا ں صفائی اور پاکی حا صل کر نے میں لگ جا نا ہے۔ چناں چہ حقیقتِ صیام کو سمجھنے کے لیے مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی وہ مثال کافی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ:
’’سکتہ کے مریض کا آخری امتحان اس طرح کیا جاتا ہے کہ اس کی ناک کے پاس آئینہ رکھتے ہیں۔ اگر آئینہ پر کچھ دُھندلاہٹ پیدا ہو تو سمجھتے ہیں کہ ابھی جان باقی ہے، ورنہ اس کی زندگی کی آخری امید بھی منقطع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کی کسی بستی کا تمہیں امتحان لینا ہو تو اسے رمضان کے مہینے میں دیکھو۔ اگر اس مہینے میں اس کے اندر کچھ تقویٰ، خوفِ خدا، کچھ نیکی کے اُبھار کا جذبہ نظر آئے تو سمجھو ابھی زندہ ہے، اور اگر اس مہینے میں نیکی کا بازار سرد ہو، فسق وفجور نمایاں ہوں، اور اسلامی حس مردہ نظر آئے تو ’’انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ لو‘‘ اس کے بعد زندگی کا کوئی سانس مسلمان کے لیے مقدر نہیں ہے‘‘۔
شاعر مشرق علامہ اقبالؒنے فرمایا ہے    ؎
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
ماہ رمضان المبارک انسان میں تبدیلی لانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ گمراہی، بد عملی یا گناہ سرزد ہو نے کے بعد اگرایک ایما ن والے میں صحیح اسلا می ہدایا ت و تعلیمات کی طرف رحجان نہ بڑھے تو اس کا خسارے میں پڑ جانا یقینی ہے۔ ماہ مبارک کا یہی پیغام اور یہی کام ہے کہ ایسے شخص کو پھر سے تائب ہوکر ایمان اور نیک عملی کی طر ف بڑ ھنے کا حو صلہ ملے۔ چناں چہ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ:
’’جب عالم انسانیت میں اخلاق و کردار کے چشمۂ سافی سوکھنے لگتے ہیں، روحانیت دم توڑنے لگتی ہے، چمنستان قلوب میں ویرانی چھا جاتی ہے، گلستانِ خیر و خوبی کی رعنائیاں شروفساد کی ظلمتوں میں بدل جاتی ہیں اور انسانیت سسکنے لگتی ہے تو رحمتِ خدا وندی جوش میں آجاتی ہے۔ گردش لیل و نہار نیکی وتقویٰ کی بہار کا مژدہ سناتی ہے اور عالم روحانیت میں ایک ہمہ گیر انقلاب کا سماں برپا ہونے لگتا ہے۔ہمہ گیر ایسا کہ اس کی آمد کا اعلان کسی خطۂ زمین پر نہیں بلکہ پورے عالم پر ہلالِ رمضان المبارک کی نمود سے ہوتا ہے۔ وسعت تغیرات کی یہ شان کہ ابتدا ہی جنت کے تمام دروازوں کے کھلنے اور دوزخ کے سارے دروازے بند کئے جانے سے ہوتی ہے۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے: ’’جب رمضان المبارک آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں۔‘‘ایک اور روایت میں ہے’’اور جہنم کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں اور شیاطین باندھ دیئے جاتے ہیں‘‘۔ (متفق علیہ) وقت ، مقدار، کمیت اور کیفیت کے سارے پیمانے بدل دئے جاتے ہیں۔ اجر وثواب کی مقدار بڑھا کر معمول سے 70گنا بلکہ لامحدود کر دی جاتی ہے۔ اس ماہ مبارک کی ایک رات ( شب قدر)ہزار راتوں سے زیادہ افضل قرار دی جاتی ہے۔ عرشِ بریں کے حامل فرشتوں کو حکم خدا وندی ملتا ہے کہ اپنی عبادت بند کر دو اور اہل زمین کی دعائوں میں شامل ہو کر آمین کہو۔ آسمانوں کا یہ سارا انقلاب اس لئے برپا کیا جاتا ہے کہ زمین پر آباد مرکز ِعالم اور مسجود ِملائک انسان کی دنیا کو ایک اندرونی انقلاب سے دوچار کرنا مقصود ہے۔ اس طرح عالم انسانیت میں ایک ایسا انقلاب رونما ہونے لگتا ہے جس کی وسعت بے پناہ اور جس کا نفوذ بے انتہا ہو جاتی ہے‘‘۔
غرض رمضان المبارک انسان کی تبدیلی، احتساب اور جائزے کا مہینہ ہے، اور اس مہینے میں انسان اگر صحیح معنوں میں اپنا احتساب کرے تو اس کی کامیابی و کامرانی اس کے نصیب میں درج کی جاتی ہے اور اگر اس ماہ میں بھی انسان نے اپنا جائزہ و احتساب نہ لیا تو انسان کے ساتھ ساتھ انسانیت کے لیے اس کا رہنا ایک طرح کا فساد بن جاتا ہے۔ احتساب و جائزہ لینے کے لیے ہمارے پاس دو مضبوط قلعے رکھے گئے ہیں جن میں رہنا اور سہنا ہماری کامیابی اور جن سے باہر نکل کر دوسرے نام نہاد ’’ جا ئے پناہ‘ ‘کی تلاش کرنا گمراہی و ضلا لت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اللہ کی اطا عت کرو اور رسو ل کی اطاعت کرو۔‘‘
اسلام کا نظام ِحیات جس میں انسانیت کی فلاح و کامرانی مضمر ہے، وہ صرف اور صرف قرآن اور رسول خداﷺکی تعلیمات پر عمل پیرا ہو نے سے مشروط ہے۔ ماہ ِمبارک میں انسان اگر خود اپناجائزہ لے تو پیمانہ صرف یہی قرآن اور اس کی تشریح محمدﷺکی سنت قرار پائے گی۔ اس سے الگ ہو کر کسی اور جگہ فلاح و کامرانی تلاش کرنا فضول اور لاحاصل عمل ہے۔ اسی لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس ماہ مبارک میں قرآن کا نزول کیا۔اللہ تعالیٰ کا ار شاد گرامی ہے:
’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت (فلاح و کامرانی) ہے اور ایسی واضح تعلیمات جو راہ راست دکھانے والی اور حق وباطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں‘‘۔(البقرہ)
گویا اگر اس ماہ مبارک کو ماہ قرآن کہیں تو صد فیصد درست ہو گا۔ یہ رب العالمین کا بے انتہا کرم و احسان ہے کہ وہ ہر سال ماہ ِرمضان کے بہا نے انسانیت پر اتمامِ نعمت، یعنی نزول قرآن سے شعور و آگاہی کا موقع بہم پہنچاتا ہے۔ ماہ رمضان دراصل علامتی یاد ہا نی ہے نزول قرآن کے انقلا ب واصلا ح کی ندائے خدا وندی کی۔ یہ صرف یادہا نی ہی نہیں بلکہ انقلاب کا پیام بھی ہے اور ساتھ ہی اس مہینے کو ان تمام صفات و خصوصیات سے نوازا گیا جو انقلاب اور صلح کل کے لئے معاون وسازگار ہوتی ہیں۔ اس ماہ مبارک کو اعمال خیر و صلاح کی فصل و بہار والی تاثیر عطا ہوتی ہے۔
اس زاویۂ نگاہ سے ماہ رمضان المبارک کو ماہ انقلاب کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا، کیوں کہ انسانی بستوں میں یہی ’’ماہِ انقلاب‘‘ نیک اعمال کا باعث بن جاتا ہے۔ زمین کا چپہ چپہ قانون خدا وندی کے حکم کے سامنے سر نگو ں ہو نے کا اظہار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ہر طرف تکبیرات، تسبیحات خدا وندی اور اس کے دربار میں عاجزانہ مناجات وردِ زبا ن ہو جا تے ہیں۔ اس ماہ مبارک میں منزل مقصود کی نشان دہی بھی ہے اور راہ ِہدایت سے آگاہی بھی، راہ روی کی تربیت بھی ہے اور رہبری کا ساماں بھی، سفر کی سہولتیں بھی اور ہر منزل آ شنا ئی پر انعام بھی۔ اس ماہ مبارک میں رحمتوں کی بارش بھی ہوتی ہے ، مغفرت کی بخشش بھی اور نارِ جہنم سے نجات بھی۔ سابقہ اعمال وافعال کا جائزہ لینے پر جنت الفردوس کی نعمتوں اور رفعتوں کی لذت آشنائی بھی ہوتی ہے۔ راہِ حق کی منزل کے حصول کے لئے اسے صراط مستقیم، یعنی دین اسلام کی مکمل رہنمائی میسر ہوتی ہے۔ تقویٰ اور احساسِ ذمہ داری کا زادِ راہ اس کے ہا تھ میں تھما دیا جاتا ہے۔ پاک و مطہراجتماعی ماحول کے ذریعے راہ کی مشکلات کو آسان کر دیا جاتا ہے اور اس راہ پر چلنے کے لیے بے حساب اجر وثواب کی امید بھی دلا ئی جاتی ہے۔
یہ سارا کچھ اس ماہ مبارک میں انسان کو اس لئے عطا کیا جاتا ہے تاکہ ایک صاحب ایمان کا مقدر سنور جائے، اسے فلاح وکامیابی نصیب ہوجائے اور وہ ابدی زندگی کی خو ش کن فضا ؤ ںسے ہم کنار ہو جائے۔ اسی ماہ قرآن کا نزول ہوا جس کا صاف اور واضح مطلب یہی ہے کہ یہ مہینہ انسان کی واحدراہ ہدایت کا مہینہ ہے کیوں کہ قرآن تمام عالم انسانیت کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا ہے۔
قرآن پاک کے نزول کا یہ مہینہ ہمیشہ سے انسان کو پکارتا رہا ہے کہ:
’’ آئو اس قرآن کو سب مل کر مضبوطی سے پکڑو ‘‘۔ ’’بے شک ہم نے تمہاری طرف کتاب (قرآن) نازل فرمائی، جس میں (اے انسان) تمہارا ہی ذکر موجود ہے‘‘۔ اس کتاب کے ذریعے اللہ تعالیٰ کچھ گروہوں کو بلند و سرفراز کرے گا اور کچھ دوسرے گروہوں کو پستی میں جھونک دے گا‘‘۔
غرض یہ ماہ ِمبارک جس میں قرآن کا نزول ہوا، جو انسان کی فلاح وکامرانی کے لیے بھیجا گیا، جس میں بحیثیت انسان ، انسان کا ہی ذکر ہے اور جس پر چل کر لوگ بلند و بالا مقام کے حقدار قرار دئے جاتے ہیں اور جسے ٹھکرا کر انسان تباہی و بربادی کا حقدار قرار پاتا ہے۔ انسان اگر خود کا جائزہ لے تو اسے معلوم ہو گا کہ قرآن کریم اس کے دل کی آواز ہے ، یہ اسے اس کا آئینہ دکھاتا ہے، اسے واضح طور بتاتا ہے کہ تو کیا ہے، کیا تھا اور مو جودہ عالم آ ب وگل اورآ نے والی دنیا میںکیا ہو گا؟ انسانی دنیا کی کا میابی کے لئے مخصوص یہ صاف وشفاف دستور العمل دنیا میں اگر کہیں موجود ہے تو وہ صرف اور صرف قرآن کی شکل میں موجود ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جس نے بھی اس قرآن کو مضبوطی کے ساتھ تھام لیا اس کی دنیا اس قدر سنور گئی کہ صدیاں گزرنے کے باوجود ادب واکرام کے ساتھ ساتھ ان کی تقلید کی جا تی ہے۔ نہ صرف ان کی یہ عارضی دنیا سنور گئی بلکہ آخرت کی دائمی خوشخبری بھی ان کی مقدر بن گئی۔ قرآ ن مجید کی معجزہ نما ئی سے یہ ہوا کہ کل تک جو گمراہ تھے وہ تمام عالم انسانیت کے لئے روشن چراغ کے مانند قرار د ئے گئے اور ان چراغوں کی روشنی کے سہارے جس نے اپنی زندگی سنوارنی کی کوشش کی تو اسے ہدایت یافتہ مانا گیا۔
ماہ مبارک کی شان یہ ہے کہ اس میں عالم انسانیت کے لیے درسِ ہدایت کا پیغام مخفی ہے۔ یہ ماہ کسی خاص رنگ و نسل، لسانی گروپ ، جغرا فیہ یا کسی مخصوص زما نے کے لئے نہیں ،بلکہ عام انسان کے لئے ، ہر طبقے کے لئے ، ہر زما نے کے لئے ، ہر مقام کے لئے ایک پر درد آواز ہے، ایک پیام انقلاب ہے، ایک صالح نظام کی طرف دعوت ہے۔
چناں چہ اس پر امن اور عالم انسانیت کے پیغام کو عام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس وقت عالم انسانیت بکھری پڑی ہے۔ اس میں بہت سارے کنفیوڑن پیدا کئے جاچکے ہیں۔ کہیں انسانیت کو خدا بیزاری اور الحاد کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے تو کہیں اسے سوشلزم کا ساحرانہ درس دیا جاتاہے، کہیں اس کے سامنے قوم پرستی کا سبز باغ رکھا جاتا ہے تو کہیں لادین جمہوریت کا میٹھا زہر پلا کر اسے مدہوش کیا جاتا ہے لیکن یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی انسانیت روز بہ روز پستی کی طرف ہی اترتی جارہی ہے۔ سب کچھ آزمایا گیا ، اِزمو ں اور فلسفو ں کو ناپا گیا ، تجربات اور حسین دعوؤ ں کے سہا نے سپنے دکھا ئے گئے ، امن ، ترقی ، احترام آدمیت کے ترانے بجا ئے گئے ، خو شحالی اور مساوات کے وعدو ں کی خوب سوداگر یا ں کی گئیں مگر نتیجہ صفر۔ اس ساری فضو ل مشق میں اگر ایک بار بھی نہ آزمایا گیا تو وہ صرف اور صرف اسلام کا نظام حیات ،قرآن اور محمدﷺکی سنت، خلفائے راشدین اور تبع وتابعین اور اولیا ئے کرامؒ کے بے عیب مشن اور ان کی روشن سیر تو ں اور نقوش ِپا کو نہ آزمایا گیا۔ اس لحاظ سے ایک بار پھر قرآن کا، نظام حیات کے پیغام کا، عالم انسانیت تک اصل نظام اور صحیح راہ پہنچانے کا مہینہ رمضان المبارک کل پرسو ں سے شروع  ہو نے والاہے، جس میں مسلمان خصوصاً نوجوان اپنے آپ کو قرآن کے رنگ میں رنگ کر ’’صبغۃاللہ ‘‘دوسرو ں کے واسطے پیغام ِ امن وسلامتی لے کر اٹھیں، کیوں کہ پیغام رمضان یعنی قرآن کی تعلیمات اور احکا ما ت کو عام انسانیت تک پہنچانے کا اگر کو ئی ظا ہر ی ذریعہ ہے تو وہ یہی مسلم نوجوان ہے۔ اس لحاظ سے ان پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اٹھیں اور خو د کو صیام کے اسپرٹ میں ڈھا ل کراپنی ذمہ داریوں اور فر یضے کے عین مطابق دنیا کے سامنے صاف وشفاف پیغامِ الٰہی کو پیش کریں۔ یہ پیغام نہ صرف خود ان جوانو ں کے لئے بے انتہا فائدہ مند ہے بلکہ تمام عالم ِانسانیت کے لیے فضائے امن وسلا متی کا ضامن بھی ہے۔
دنیا فساد کی لپیٹ میں اس قدرآچکی ہے کہ کہیں نکلنے کا کوئی اشارہ تک دکھائی نہیں دیتا۔ اس پُر طہا رت ماحول میں رمضان المبارک کا یہ پا ک ومقدس مہینہ جس کاایک بار پھر بس ظہور ہونے ہی والا ہے، پکار پکار کر ہم سب مسلمانوں کو اپنی پہچان بہ حیثیت امت وسط اور نیکی کا حکم کر نے والا اور بدی سے رو کنے والی امت کے طور کرا نے کی تلقین کر تے ہو ئے ضبط ِ نفس اور بلا چو ن وچرا صرف اللہ کے سامنے ہر اعتبار سے سر نڈر کر نے کی ہدایت دیتا ہے۔ ہما ری کو شش ہو نی چا ہیے کہ اس ہد ایت کو اپنی عملی زندگیو ں کا گہنہ بنا نے کا عز م با مصمم کر یں۔ اللہ ہمارا حافظ و نگہبا ں ہو۔
٭٭٭٭٭


Monday, 26 May 2014

مودی ۔۔۔ آر پار کایار ؟...................ہر زماں ہے امتحاں کہ ہرنفس ہے احتساب

.............
 نریندر مودی نے آج انپے عہد ے کا حلف ایک شاندار تقریب میں اٹھایا اور اب وہ رسما بھارت کے نئے وزیراعظم ہیں ۔ انہوں نے دن کی شروعات راج گھاٹ میں گاندھی کی سمادھی پر  گل باری اور پرارتھنا سے کی ۔ اور بعد ازاں حلف لیا۔ حلف برداری کے فنکشن میں ان کے پاکستانی ہم منصب نواز شریف کے علاوہ سارک ممالک کے سربراہوں کی شرکت نے محفل کا ایک الگ ہی سماں باندھا۔ راج گھاٹ پر مودی کی اولین فرصت میں حاضری دینا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ گاندھی واد کے شیدائی ہیں اور نتھو رام گوڈسے کی اس فلاسفی سے ان کا کچھ لینا دینا نہیں جو اس نے آر ایس ایس کی کوکھ میں سیکھی۔ یہ اگرنمائشی معاملہ نہ ہو تو خود میں ایک بہت بڑی پیش رفت ہے ۔بھارت میں پارلیمانی انتخابات کے بعد جو چونکا دینے والے نتائج سامنے آئے انہیںدیکھ کر یہ واضح ہو گیا کہ ملک میں وہ لوگ جنہوں نے اس الیکشن میں عملی طور حصہ لے کر ووٹ ڈالا ، چاہتے ہیں کہ برسوں پراناخاندانی نظام کا خاتمہ ہو اور ایک نئی سیاسی تبدیلی آئے تاکہ ان کے مسائل حل ہوں اور مصائب ٹل جائیں۔ الیکشن کے نتائج سے ہی یہ واضح ہو گیا کہ جس مودی لہرکی باتیں چہارر سُوہو رہی تھیں اسی لہر نے آخر کار خاندانی راج کا خاتمہ کر کے ایک ایسی عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا کہ پوری دنیا دیکھتے ہی رہ گئی۔ کئی لوگوں کا عندیہ ہے کہ بھارت واسیوں نے ہندو توا کو ووٹ دے کرجتایا جب کہ کئی ایک طبقاتِ فکر الیکشن نتائج کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔۔۔ایک ایسی تبدیلی جس سے خزاں آلودہ فضا میں ایک بہار آجائے اور بھارت دیس ایک ایسا ملک بن جائے جہاں فتنہ وفسادکا خاتمہ اور مسائل کا نپٹارا ہو ۔ بہرحال مودی لہر نے اپنا پہلا جلوہ دکھایا اور دیس اور دنیا پر واضح کر دیا کہ بھارت واسی فکر وعمل کی تبدیلی کے خواہاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ ملک تعمیر وترقی اور سکھ شانتی کی پٹری پر آجائے۔ بھارت کے نو منتخب وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی تاج پوشی کے حوالے سے صدر ہند پرنب کمار مکھرجی کے نام پیغام قبل از وقت ببھجوا دیا کہ روایت سے ہٹ کر وہ وزیر اعظم کا حلف راشٹر پتی بھون کی چار دیواری کے اندر نہیں بلکہ کم وبیش تین ہزار مہمانوں سے بھرے دربار کو لے کر اس بھون کے آنگن میں لیں گے۔ ان کی اسی خواہش کے عین مطابق 26مئی کو یہ تقریب ہوئی جس میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی شرکت سے مودی کے ساتھ ساتھ ان پر عالمی میڈیاکی آنکھیں مرکو زرہیں۔ یاد رہے کہ انہیں خصوصی دعوت نامے بھیجاگیا تھا۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے پہلے ہی جب انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوا ، بھارت کے نومنتخب وزیر اعظم نریندر مودی کو مبارک باد دیتے ہوئے اس بات کا کھل کراظہار کیا کہ نئی سرکار کی آمد سے یہ امید اور توقع رکھی جا سکتی ہے کہ آئندہ ہند پاک مذاکرات کا دروازہ کھل جائے گا اور تمام مسائل کا حل نکالنے کی بھر پور کوشش کی جائے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان جو تلخیاں اور سردمہریاںپائی جاتی ہیں، ممکن ہے بھارت میں اس کلیدی اہمیت کی حامل سیاسی تبدیلی سے واجپائی ودر کی یادیں تازہ ہوںجب آر پار اعتماد سازی کے بہت سارے اقدامات کئے گئے۔ بھارت پاک تعلقات کے حوالے سے جو آئے روز میڈیا رپورٹیں سامنے آرہی ہیں ان سے کچھ نیا ہونے کے اشارے ملتے ہیں بلکہ کئی مباحثوں اور میڈیا رپورٹوں سے ایسا تاثر جھلکتا ہے کہ شاید دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کچھ تبدیلیاں آئیں گی۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان کے سابق سفارت کار اور بھارت کے خلاف سخت رویہ رکھنے والے کئی پاکستانی لیڈروں نے بھی دوطرفہ تعلقات میں بہتری کی خوش امیدیاں ظاہر کی ہیں۔ حال ہی ایک مباحثے میں سخت رویہ اختیار کرنے والے پاکستان کے سابق سفارت کار ظفر ہلالی نے کہا کہ’’ نریندر مودی کی جیت کے فوراً بعد بغیر کسی تاخیر پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے مودی کو نہ صرف مبارک باد دی بلکہ بھارت کے ساتھ نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا جس کے بعد نریندر مودی نے حلف برداری کی تقریب میں نواز شریف کو مدعو کیا‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’بی جے پی کی سرکار سے پاکستان کے تعلقات دوسری حکومتوں کے بالمقابل بہتر رہنے کی توقع ہے۔‘‘ نئی دہلی میں پاکستان کے ایک اور سابق سفیر شہر یار خان نے بھی اسی طرح کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’ شروعات بہتر ڈھنگ سے ہو چکی ہے اور اب امید کی جانی چاہیے کہ دونوں ملک مسائل کے حل کے لئے مثبت کوششیں کریں گے۔’’ ایک اور سابق سفیر اسلم رضوی نے کہا کہ ’’بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری کے نمایاں آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ ‘‘سابق سفیر اور خارجہ سیکرٹری عبد العزیز خان نے یہاں تک بھی بتایا کہ ’’بھارت کی یو پی اے سرکار تعلقات کے حوالے سے محض وقت کاٹتی رہی جب کہ اب دونوں ملکوں کی سرکاریں مضبوط ہیں اس لئے مضبوط رشتوں کی پوری اُمید ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں اطراف سے شکوک وشبہات کا سلسلہ ترک ہو جانا چاہئے۔‘‘ برگیڈر راشد قریشی نے ہندو پاک تعلقات میں خوشگوار تبدیلی کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ’’ اب وقت آگیا ہے کہ دونوں ملک ٹھوس اور مثبت اقدامات کا آغاز کریں تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان رشتوں کے حوالے سے جو غیر یقینیت بنی ہوئی ہے ،اس کا خاتمہ ہو جائے۔ ‘‘ چنانچہ اسی طرح کے بیانات بھارت کے نو منتخب وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے بھی آتے رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میںیہاں تک بھی کہہ دیا کہ ’’میری سرکار کو پاکستان کے ساتھ دشمنی نہیں دوستی ہو گی‘‘ ۔انہوں نے واضح طور کہا کہ’’ پاکستان کے ساتھ بھارت کے رشتے مزید مستحکم ہوں گے،اپنے پڑوسیوں کے بارے میں کبھی غلط سوچا نہیں ہے بلکہ چین کے ساتھ بھی مضبوط رشتوں کو اہمیت دی جائے گی۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ملک کے اندر اس قدر استحکام لائیں گے کہ پاکستان خود بھارت کے ساتھ دوستی کی آرزو کرے گا۔‘‘ یہ پوچھے جانے پر کہ’’اگر آپ اب وزیر اعظم بن گئے،تو کیا اب آپ پاکستان کو ڈرائیں گے؟ نریندرمودی نے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ ایسا کیوں کروں گا؟ پاکستان ہمارا پڑوسی ملک ہے، ہم اس کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کریں گے بلکہ پڑوسیوں کے ساتھ آنکھ دکھا کر یا جھکا کر نہیں بلکہ آنکھیں ملا کر بات چیت کر کے راہ ِامن ہموار کریں گے۔‘‘ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ سینئر سیاسی و سماجی لیڈروں اور سفارت کاروں کی طرف سے اسی طرح کے بیانات آرہے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آگے کیا ہو گا ؟اس کا اندازہ کرنا ابھی اگرچہ مشکل ہے ، تاہم آج تک جو ہوتا آرہا ہے اس سے کئی لوگوں کے خدشے ابھی بھی یہی ہیں کہ ’’آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ بہر حال جو بھی ہونا ہے وہ ہو کر رہے گا لیکن پاک بھارت کے درمیان جو تلخیاں کبھی کبھار جنگ کی دہلیز تک انہیں پہنچاتی ہیں، اسے دیکھ کر یہ خدشہ ہے کہ حکومت چاہے کسی کی بھہ ہو یہاں ایک دن کی خوشی کئی برسوں کا ماتم جیسا منظر سامنے نہ آتارہا ہے۔ چونکہ بھارت کے نئے وزیر اعظم کی گجرات تاریخ کا سیاہ باب ابھی مکمل طورسے بندنہیں ہوا ہے، وہ باب اس قدر خونچکاں ہے کہ انسانیت کانپ اٹھتی ہے۔ گجرات فسادات کے دوران نریندر مودی کی سرکار نے مسلمانوں کے ساتھ کیسا ناقابل بیان سلوک روا رکھا، اس کے متعلق پوری دنیا اچھی طرح سے واقف ہے۔ اور تو اور مسلمانوں کے علاوہ باقی اقلیتوں کے تئیں ان کے خیالات کیسے ہیں وہ بھی واضح ہیں۔ تاہم اس بار مرکزی حکومت کی باگ ڈور بی جے پی کے ہاتھوں میں اس طرح آگئی ہے کہ انہیں کسی سہارے کی کوئی ضرورت بھی نہیں رہی، اس نے ۴۸ء کے بعد اپنے بل بوتے پر حکومت قائم کر کے ایک ایسا چمتکار دکھایا کہ پوری دنیا دیکھتے ہی رہ گئی۔

پاک بھارت تعلقات میں مثبت تبدیلی کہ امید کرنا کوئی گناہ نہیں ہے لیکن دونوں ممالک کے مابین جو بھی معاملات ہوں گے ان میں جو حل طلب اہم مسئلہ ہے وہ جموں وکشمیر کا متنازعہ و دیرینہ مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کی وجہ سے اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ دلی اوراسلام آبادکے دویگر مسائل لٹکے چلے آرہے ہیں، جن کا حل نکلتے نکلتے بھی نہیں نکل پا رہا ہے۔ نئی  مرکزی حکومت نے اگر کانگریس سرکار کی وہی پالیسی اختیار کی جس میں وہ بار بار بات چیت کے میز پر بیٹھ بھی گئے لیکن صرف اپنا ووٹ بٹورنے کے لئے، ان کے دور میں کئی بار مذاکراتی میز سجائے گئے ، ایک دوسرے کا آمنا سامنا ہوا لیکن حل دور دور تک بھی نظر نہ آیا۔ اگر بالفرض بھارت کی یہ نئی سرکار برابر اسی نہج پر برقرار رہی تو شاید اس سرکار کا بھی آخر کار وہی حشر ہو نا ہے جو اس سے قبل کی حکومتوں کاہوا۔
یہ بات واضح ہے کہ پاک بھارت کا جڑنا ایشیا ء کے اس خطے کے لئے بے حد ضروری ہے۔ برصغیر میں ان دونوں کے درمیان چپقلش اور تلخیاں اگر ختم ہو جائیں تو یہ ایک ایشیائی طاقت کا ایک اور نمونہ ہو گا۔ یورپ، جس کا نام ایک ’’طاقتور بیلٹ ‘‘کے طور پر لیا جاتا ہے، اس کے آگے ایشیائی ممالک سرجکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں جن میں سے پاکستان اور بھارت بھی شامل ہیں۔ بدیہی حقیقت یہی ہے کہ پاک بھارت کے درمیان بغض وعداوت کی جو نفسیاتی خلیج پائی جاتی ہے، ان کے مابین جو یہ دشمنی کا بیج روز بروز اُگنے کے ساتھ ساتھ پھیلایا بھی جا رہا ہے، یہ برصغیر کے مسائل حل ہونے میں مانع ہے۔ یورپین طاقت جس کا سکہ اور جس کی چودھراہٹ برصغیر میں اس لئے چل رہی ہے کیونکہ کہ برصغیر بٹاہوا ہے، ان کے درمیان جو ممالک آباد ہیں وہ ایک دوسرے سے اس قدر نالاں وپریشان ہیں کہ دور سے ان کا یک جٹ ہونا محال دکھائی دے رہا ہے۔ یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سازش ہے جو برصغیر سے باہر رہنے والے نام نہاد ترقی پسند ممالک کی کارستانیاں ہیں۔ پاک بھارت تعلقات میں تلخیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ اگر کسی حد تک حل ہو سکتا ہے تو وہ صرف اور صرف کشمیر حل سے ہو سکتا ہے۔ مسئلہ جو 60سال سے زائد عرصہ سے لٹکا چلا آرہا ہے۔ اس دوران ہزاروں نہیںبلکہ لاکھوں کی جانیں تلف ہو گئیں، ہزاروں بہنیں بیوہ ہو گئیںاور ایسے ایسے واقعات رونما ہوئے جن پر سوچ کر بھی رونگٹھے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہی کشمیر حل باقی ہے۔ بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی ہے کہ ’’جموں وکشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے‘‘ اور پاکستان کا یہ کہنا کہ ’’جموں وکشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘‘۔ اس آپسی بیان بازیوں کے درمیان جموںوکشمیر کی عوام آج تک کٹتی جاری ہے، اسے دن و رات کے جس لمحے بھی چاہیں پابند زنداں کیا جاسکتا ہے، گھروں میں توڑ پھوڑکے علاوہ لوٹ مار کی جا سکتی ہے، پرامن احتجاج کے دوران گولیوں سے جواب دے کر انسانوںکی لاشوں کاڈھیر کیا جاسکتا ہے۔ غرض کہ یہاں کے لوگ پاک بھارت تعلقات اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے کٹے مرے جا رہے ہیں ۔ بھارت کی نئی سرکار اگر چاہے تو مسئلہ کشمیر کے بارے میں روایتی ہٹ دھرمی کو خیر باد کر کے پرامن طریقے سے پاکستان اور ریاست جموںوکشمیر کے عوام کے منتخب اور حریت پسند سیاسی لیڈران کوایک جگہ جمع کر کے اس دیرینہ مسلے کا حل نکال سکتی ہے۔ بہرصورت یہ مسئلہ حل ہو گیا تو کسی حد تک پاک بھارت تعلقات میں اصل معنی میں تبدیلی تو آ نی ہی ہے مگر نریندر مودی کا قد تاریخ کے پنوں میں اتنا اونچا وہوگا کہ شاید ہم اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے    ؎
امیدوں کے سہارے جئے جا رہے ہیں
ورنہ حقیقت کا منظر کچھ اور ہی ہے