Thursday, 12 November 2015

گوہر نذیر۔۔۔کس جرم کی بھینٹ چڑھا؟ ...............کتنی آہیں ، کتنی چیخیں ، کتنی قبریں چاہیے

Saturday, 3 October 2015

رضائے الٰہی کے لیے قربانیاں لازم

٭ابراہیم جمال بٹ
...................

چند روز قبل ہی عید الاضحی کی مبارک ساعتیں ہم سے رخصت ہوئیں۔اس عید کے موقعہ پر ہم نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکرانہ اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی تکبیرات بلند کرتے ہوئے عید نماز ادا کی۔ عید الاضحی کی حقیقت کیا ہے؟ جب یہ سوال اللہ کے رسول ﷺ سے کیا گیا تو رسول اللہﷺ نے صحابہ کرامؓ سے فرمایا کہ ’’ یہ تمہارے باپ کی سنت ہے۔‘‘ سیدنا ابراہیم ؑکی پوری سیرت پاک توحید کی اقامت اور اس کی پاسداری کی خاطر غیر معمولی تلاش وجستجو،ہجرتوں اور قربانیوں سے عبارت ہے، یہ حق تعالیٰ کے لئے جینے اور مرنے کا فارمولہ اور ابتلاء و آزمائش کا مرقع ہے۔ آپؑ کی پوری زندگی بعد کے لوگوں کے لئے اُسوہ طیبہ ہے اور اسلام کی سچی مثال اور حقیقی تفسیر ہے۔ حضرت خلیل الرحمٰن ؑصحیح معنوں میں مسلمِ حنیف تھے۔ اسلام کے مثالی نمونے کی توضیح انبیائی عظمتوں  کے ساتھ سیدنا ابراہیم و اسماعیل نے از خودکی۔ اس کے بالمقابل اسلام کی یہ تفسیر و تعبیر بتاتی ہے کہ یہ اپنے مزاج ومنہج، نتائج و ثمرات اوراپنے مطالبات اور تقاضوں کے اعتبار سے سراپا عمل اور جہد مسلسل کا نام ہے۔ یہ ایک ایسی انقلابی زندگی سے عبارت ہے جس میں ہر آن اللہ کی رضا جوئی کی دُھن مومن کے قلب وجگر پر سوار ہو اور اس کے ہر اشارے کی بہر صورت تکمیل ہو، یہاں سر تسلیم خم کر تے ہوئے آگ اور خون سے گزرنا پڑ تا ہے،یہاں اپنی پسند و ناپسند میں، جائز و ناجائز میں، حلال و حرام میں ہر حیثیت سے اور ہر وقت ’’سمعنا و اطعنا‘‘ کی بالا دستی قائم ودائم رہتی ہے۔
اسلام کو روبہ عمل لانے کے لئے حضرت ابراہیم ؑ کی پاک زندگی کا ایک ایک پل اللہ تعالیٰ سے لولگا نے ا ور اس کی خوشنودی کو ہر چیز پر مقدم رکھنے اور اس کے علاوہ اسی راہ میں عشق کے تقاضوں اور عقل کے مطالبات پورا کر نے کی جان فزا تصویر ہمارے سامنے لاتا ہے۔ اس سیرت ِمحبت و جہد مسلسل میں دنیا ئے عمل سے مصلحت پسندانہ فرار نہیںبلکہ محبّانہ اقدام، عارفانہ جفاکشی اور پیغمبرانہ معرفت اور سرمستی کی انتہا ملتی ہے۔
آج اس حُب سے مشرف ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ کی معرفت اور حقیقت کی پہچان کی اشد ضرورت ہے۔ ایک مسلم کی حقیقت کیا ہے؟ کیا اس کے سوا کچھ اور کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دربار میںایک بکا ہوا مال اور اللہ کا زر خرید غلام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومنین کے جان ومال کو جنت کے عوض خر ید لیا ہے۔جنت کتنی بے بہا اور تصور سے ماورا دولت ہے ،اس کا ہم اندازہ بھی نہیں لگاسکتے۔ اس کے بالمقابل جس جان کی حفاظت کے لئے ہم اورآپ جس محبت کا دامن تھامے رہتے ہیں اس کی بے وقعتی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ روزِ قیامت جہنم سے رستگاری اور عذابِ آخرت سے نجات کی خواہش میں یہ تمنا کی جائے گی کہ اے کاش! بیوی، بیٹے اور دیگر اہل خانہ حتیٰ کہ سارے عالم کے لوگوں کی جانیں بطورِ فدیہ لے کر عذاب سے نجات دی جائے۔ لیکن روزمحشر کو اتنی ساری جانیں اور قربانیاں خوشی خوشی پیش کرنے کے باوجودبھی، جن سے دامن بچا بچاکر ہم نے چند روزہ دنیوی زندگی میں حقیقی اسلام سے بے وفائی کی تھی، ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی ہیں۔ کتنی بے وقعت ہے یہ انسانی جان لیکن کتنا بڑا معاوضہ دیا ہے اس کا ہمارے رب نے کہ وہ مردمومن کی ایک جان کے عوض اسے محض عذابِ جہنم سے نجات ہی نہیں بخشتا بلکہ جنت کے انعام واکرام سے بھی نوازتا ہے۔ یقینا یہ مستقل منافع کا سودا حضرت ابراہیم نے اللہ عزوجل سے کیا۔ 
’’اسوہ ٔابراہیمی ؑکی روشنی میں یہ بات نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ حق تو دراصل وہی ہے جو باطل کی آنکھوں کا کانٹا بن جائے اور اس سے باطل کی نیند حرام ہو جائیں۔ وہ’’ حق ‘‘حق نہیں ہے جسے باطل نہ صرف یہ کہ ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر ے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی اور بسا اوقات نوبل پرائز کا ڈھنڈورا پیٹ کر اس کی عزت افزائی بھی کرتا پھر ے کیونکہ ’’ حق ‘‘ کا فرضی وجود  باطل وابلیس کا کیا بگاڑ سکتا ہے؟ حق دراصل ایک پیمانہ ہے جس کو پرکھنے کے لئے قربانیوں کا آلۂ پیمائش استعمال کر کے کھرے اور کھوٹے کی تمیز اور پہچان کرائی جاتی ہے۔آج بھی اگر’’ حق ‘‘کا دعوے دار کوئی فرد یا کوئی جماعت یا گروہ ایسا موجود ہو جسے باطل کی سرپرستی اور شاباشی حاصل ہو تو جان لینا چاہئے کہ وہ منافقت کے پر دے میں باطل کا آلۂ کار ہے۔ اللہ ہم کو ایسے’’ حق ‘‘کے شر ور سے محفوظ رکھے۔ آمین



Saturday, 8 August 2015

محبت نہ ہو تو محبوب سے کیا رشتہ!


٭ابراہیم جمال بٹ
...................


محبوب کی محبت ایک فطری عمل ہے لیکن اگر اس محبت کے بیچ محبوب کی پسند وناپسند کا خیال نہ رکھا گیا ہو تو یہ محبت نام کی ایک ’’مشق گردانی‘‘ کہلائے گی۔ محبت محبوب کی ہر عمل پر وقت، پیسہ حتیٰ کہ جان بھی قربان کردینے کا نام ہے۔ اس کی ہر ادا ہی نہیں بلکہ ہر حکم کی تعمیل میں محبت لفظ کی تشریح موجود ہوتی ہے،بلکہ اگر یوںکہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ اس کے دوستوں اور ہمنوائوں کی قدرکرنے میں محبوب کی ہی کی خوشبو محسوس کی جا سکتی ہے۔ مرزا غالب ؔنے کیا ہی خوب کہا ہے    ؎’’غالب ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست‘‘غرض محبت ایک ایسے عمل کا نام ہے جس میں مٹھاس ہے، جس کی مٹھاس کا نتیجہ تازہ تازہ پھل اور پھولوں کی خوشبو ہے۔ یہ تازہ پھل اور گلابی خوشبو جس شخص کو حاصل ہو جائے اسے اور کیا چاہیے۔ ایک طرف لذیز اور تازہ پھل اور دوسری جانب رہنے کو پھولوں سے بچھا ہوئی ایسا نرم نرم بچھونا کہ چاہتے ہوئے بھی کوئی اس سے نہ اُٹھے۔ آج دیکھئے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں پوری دنیا میں اس محبوب کے محب ستارے ہر جانب چمکتے نظر آرہے ہیں۔ ہر ستارہ انسانی دلوں پر راج کر رہا ہے، زبانوں پر ان کا نام ادب واحترام سے لیا جا رہا ہے، اور جب کبھی بھی ان ستاروں کے متعلق بات چھیڑی جاتی ہے تو ہر جانب آہ آہ کی صدا ئیں سنائی دیتی ہے۔ یہ سب کچھ اسی اصل محبت کا نتیجہ توہے۔ اس کی ہر ادا ہے میری جانوہ جان ہی کیا جو نہ ہو اُس پر قربانلیکن! محبوب نے جو کہا ہم نے اس پر غور نہیں کیا… اس کو سنا مگر سنتے ہی رہ گئے، نہ حکم کی تعمیل، اور نہ ہی سن کر کوئی ہمارے اندر وبیرون کوئی تبدیلی رونما ہوئی،بس سنتے ہی رہ گئے۔ محبوب کی بات سننی تھی تو ہم نے لبیک کہا… جب قریب سے دیکھا تو لبیک کے سوا کچھ نہ پایا… محبوب کی محبت کا اصل (اس کی ہر ادا اور ہر حکم پر قربان ہونا) مقصد ہی نہیں پایا۔ محبت کی راہ میں جو اقرار کرنے کا وقت آیاتو زبان پر صرف محبوب محبوب ہی نکل رہا تھایاد رہے! وہ دعوی ہی کیا جس میں زبان پر محبت ہو لیکن عمل سے خالی ، وہ محبت نہیں بلکہ خود اپنے آپ کو ہی دھوکاہے۔ جس دل میں خمیرِ محبت کے ساتھ ساتھ قربان علی المحبوب کا جذبہ نہ ہو اس محبت میں کوئی دم نہیں۔ افسوس ہم لوگ محبت کے معنی، مفہوم اور مقصد وغایت سے ناآشنا ہونے کی بنا پرہی ’’زبانی محبت‘‘ کو اصل محبت سمجھ بیٹھے ہیں۔ نتیجہ سامنے ہے کہ ایک جانب محبوب کی زبانی محبت ہے اور دوسری جانب محبت کی ہر ادا اورہر پسندو ناپسند پر ہمارا عملی انکار۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل اور مطلوب ومقصودِ محبت کی کوئی حیثیت ہمارے دلوں میں موجود ہی نہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے دلوں  میں محبت اور محبوب کی ہر خواہش پر عمل ہے۔ جس انسان میں محبت کے ساتھ اتباعِ محبوب نہیں، اس کے اندر مطلوبہ محبت نہیںہے۔ دراصل ان کے دل محبت کے نور سے خالی پڑے ہیں۔وہ دل محبت کے اصل جوہر سے خالی ہیں، جو اگرچہ زبان سے بکھیر دیتے ہیں محبت کے پھول، مگر عملی اعتبار سے محبوب کے وفادار نہیں ہوتے ہیں۔محبوب سے محبت کرنے والے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ:’’اگر تم لوگ اللہ سے محبت کرتے ہو تو (میرے محبوبؐ) کی اتباع کرو، میں تم سے محبت کروں گا۔‘‘اے کاش ہم نے بات مانی ہوتی!آج ہم اس قدر ذلیل وخوار نہ ہوتے، ہم محکوم ومجبور نہ ہوتے، ہم اعلیٰ سے ادنی نہ بن جاتے، ہم ہر کسی کا نوالہ نہ بن جاتے۔ یہ بات واضح ہے کہ جب تک ہم محبوب کی اصل محبت میں کام کر رہے تھے تو دنیا کی کوئی بھی شئی ہماری تابع وفرماں برداری سے خالی نہ تھی اور جب ہم نے راہ بدلی تو دنیا کی ہر حقیر شئی ہم پر غالب وحاکم ہو گئی۔ ٭٭٭٭٭


Sunday, 12 July 2015

ماہ رمضان : ایک عہد وپیماں


٭ابراہیم جمال بٹ 

.......................

ماہ رمضان المبارک کی مبارک ساعتیں ہم سے رُخصت ہو رہی ہیں… اس میں ہم نے محنت کر کے اللہ کی رضا جوئی حاصل کرنے کی انتھک کوشش کی… فرض نمازوں کی وقت پر پابندی، نوافل کا زیادہ سے زیادہ اہتمام، قرآن کی تلاوت میں مزید اضافہ… نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا… اور اسی طرح دیگر ایسے کام کئے جن سے اللہ تبارک وتعالیٰ کی خوشی حاصل ہو جاتی ہے… الحمد للہ علی ذالک… اس پر جتنا بھی اللہ کے دربار میں شکر ادا کیا جائے کم ہے… ہم نے مسلسل روزہ رکھ کر یہ اعلان کیا کہ ہم وقت آنے پر پیٹ پرپتھر باندھ سکتے ہیں…ہم بھوکے رہ سکتے ہیں… لیکن اللہ کی نافرمانی نہیں کر سکتے… اس کے حکم کی تعمیل میں بھوک کی حالت میں جان بھی نکل جائے تو مضائقہ نہیں… ہم نے مسلسل اور وقت کی پابندی کا خیال کر کے نماز کی پابندی کا مزاج اپنے اندر پیدا کیا… یہ اس بات کا اعلان ہی تو ہے کہ ہم اللہ کے دربار میں سلامی دینے کے لیے ہر وقت تیار ہیں… جب اللہ کے دربار سے منادی آئے گی، ہم حاضر ہونے کے لیے تیار ہوں گے… اُس کے آگے جھکنے اور دوسروں سے ’’لا‘‘ کرنا اسی نماز کا ایک اہم درس ہے… ہم نے فرائض نماز کے ساتھ ساتھ نوافل کا بھی بڑے ذوق وشوق سے اہتمام کیا… یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہم اپنے رب کی رضا حاصل کرنے کے لیے اس کے حکم (فرض) کے علاوہ بھی اس کے آگے جھکنے (نوافل) میں اپنی زندگی گزار کر اپنے باغ کو مزید پھولوں اور خوشبو سے منور کر سکتے ہیں… ہم نے صبح سے لے کر شام تک جب بھی فارغ وقت پایا بلکہ وقت نکال نکال کر تلاوت قرآن پاک میں گزارا… یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن ہماری رہبر ورہنما کتاب ہے… اسی کی روشنی سے ہمیں وہ راستہ مہیا ہو سکتا ہے جس کے ہم متلاشی ہیں… ہم دُعا کرتے ہیں… اے اللہ! ہمیں سیدھا راستہ دکھا… وہ راستہ جس پر آپ نے انعام رکھا ہے… اس راستے پر چلنے اور کامیابی سے ہمکنار ہونے کے لیے، قرآن واحد کتاب ہے… گویا کہ دوسرے الفاظ میں ہم اعلان کرتے ہیں کہ اس دنیا میں اگر امن وآشتی کا پیغامبر ہے تو وہ یہی قرآن ہے… اس دنیا پر اگر کوئی نظام حق ہے تو وہ اسی قرآن کا نظام ہے… اس دنیا پر بسنے والے لوگوں پر اگر کوئی قانون صحیح اور کامیاب ہو سکتا ہے تو وہ اسی قرآن کا قانون ہے… اس ماہِ مبارک کے آخری ایام ہم اب شب خوانی میں گزارہے ہیں… جس میں نوافل نماز میں افضل ترین نماز ’’تہجد‘‘ کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے… یہ بھی اسی اعلان کی ایک کڑی ہے کہ ہم نہ صرف اللہ کی رضا جوئی کے لیے دن میں کام کر سکتے ہیں بلکہ کبھی کبھار رات کی نیند کو بھی قربان کر سکتے ہیں… ہم اللہ کی راہ میں دن کے شاہسوار اور رات میں پہرہ داری کی ذمہ داری بھی انجام دے سکتے ہیں…ہمارا دن اللہ کی راہ میں گزر سکتا ہے اور ہم رات بھی اسی کے لیے قربان کر سکتے ہیں… اس ماہ ہم نے اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا… زکوٰۃ کے ساتھ ساتھ صدقات وخیرات بھی دل کھول کر دئے… یہ اس بات کا تو اظہار ہے کہ اللہ کی راہ میں وقت… دن ورات… پیسہ… اور صلاحیتیںقربان کر سکتے ہیں… یہ اس بات کا اعلان تھا کہ… مال دینے والی اللہ کی ذات ہے… اور اسے اسی کی راہ میں قربان کرنابھی عبادت ہے… ۔ غرض اس ماہ مبارک میں ہم نے اللہ کے ساتھ بے شمار عہدوپیمان کئے ہیں… اس کی ہر ادا پر قربان ہونا… اس کی سلامی کاوقت پر جواب دینا… اس کی راہ میں اپنا جیب خالی کرنے میں خوشی کا اظہار کرنا… یہ سب عہد وپیمان ہی تو ہیں جو ہم نے اس ماہ مبارک میں کئے… اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم اس ماہ کے اختتام کے بعد شوال کے مہینے میں اپنے عہدو پیمان پر برقرار رہ پائیں گے یا نہیں… اللہ کا جو اس ماہ کے روزوں کا مقصدانسان کے اندر ’’تقویٰ ‘‘پیدا کرنا ہے… جب ایک مومن اللہ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اور اللہ کی رضا کی خاطر روزہ رکھتا ہے تو اس کے دل میں تقویٰ کا شعور اجاگر ہوجاتا ہے…یہ تقویٰ ہی ہے جو دلوں کا نگہبان ہے اور جو انسان کو روزے کے احکام کی خلاف ورزی سے بچاتا ہے…اگرچہ وہ ایسی معصیت سے بھی انسان کو بچاتاہے ،جو کسی حد تک محض وسوسہ ہو۔قرآن کریم کے اول مخاطب صحابہ کرام ؓا س کے معنی سے اچھی طرح واقف تھے۔وہ جانتے تھے کہ اللہ کے ہاں تقویٰ کس قدر وزنی ہے۔اس لئے تقویٰ ہی ان کا نصب العین تھا۔وہ برابر اس کی طرف بڑھتے جاتے تھے اور روزہ ذرائع حصول ِتقویٰ میں سے چونکہ ایک ذریعہ ہے اس لئے یہ فرض کیا گیا۔دراصل روزہ وہ راہ ہے جس کی آخری منزل تقویٰ ہے۔یوں لگتا ہے کہ قرآن مجید ،ایک بلندمقام پر ،بالکل سامنے تقویٰ کا ایک روشن نشان رکھ دیتا ہے اور اہل ایمان کی آنکھیں اس نشانہ پر جم جاتی ہیں اور وہ روزہ کے واسطے اورروزے کی امداد سے تقویٰ تک پہنچنے کے لئے کوشاں نظر آتے ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ تقویٰ ہمیں حاصل ہوتا ہے یا نہیں…؟ ماہ رمضان المبارک کی ساعتیں گزرنے کے بعد ماہ شوال کے پہلے ہی دن معلوم ہو جائے گا کہ ہم نے کیا پایا اور کیا کھویا… تقویٰ و پرہیز گاری حاصل ہوئی یا کچھ اور… ؟ماہ رمضان المبارک سے قبل جس قدر ہماری حالت تھی اگر وہی حالت برابر قائم رہی… تو ہمارا احتساب آخر کب ہو گا… اس ماہ بھی اگر ہم نے وقت ضائع کیا تووقت سے کب فائدہ اٹھا پائیں گے۔؟ 



Friday, 17 April 2015

خبردار :سوائن فلو کی ہے یلغار !

٭ابراہیم جمال بٹ

.....................

’’سوائن فلو‘‘ نے گزشتہ کئی ماہ سے ایک ایسی خوفناک صورت حال اختیار کی ہے کہ ہر کوئی پریشان و بے حال ہے۔ ہر جانب لوگ اس سے بچائو کی تدابیر کے بارے میں اظہار خیال کرتے نظر آرہے ہیں ، لیکن کیا کیا جائے ابھی تک اس کا رکائو نہیں ہو رہا ہے ،البتہ میڈیا نے کسی حد تک اس شہ سرخی کو چھوڑ دیاہے۔ حالانکہ اکثر لوگ ابھی تک چہرے پر ’’ماسک‘‘ لیے پھرتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا ہے کہ’’ ماسک‘‘ پہننا فضول عمل ہے بلکہ کہنے کا مقصد بس یہ ہے کہ لوگ پریشان ہیں اور جان کی حفاظت کرنے کے لیے ہی ایسا کرتے ہیں۔ 
اب ذرا اس سوائن فلو جس نے اتنا تہلکہ مچا دیا ہے… کو غور وفکر کا نقطہ بنا کر اپنی اپنی جگہ سوچیں کہ کیا ہم ہر اس جان لیوا شئی سے برابر اسی طرح پرہیز کر کے، ان سے بچنے کی سوچتے ہیں…؟ اگر ہمارا حال ہر ایسی چیز کے بارے میں جس سے ہمارا نقصان ہو رہا ہو یہی ہے تو الحمد للہ… اور اگر اس سے مختلف ہے تو ذرا سوچئے…! یہ تضاد کیوں؟ 
سوائن فلو سے متاثرہ انسان سے بچنے کے لیے بے شمار اقدامات اُٹھائے جاتے ہیں کیوں کہ یہ جان لیوا وائرس ہے۔ حالاں کہ ہمارے موجودہ معاشرے میں اِس سے زیادہ مہلک ترین بیماریاں پھیلی ہوئی ہیں، لیکن ان سے بچنے کی تدابیر نہیں کی جاتی، بلکہ ان کے پھیلائو کو ’’ماڈریٹ‘‘ کے لقب سے مذین کیا جاتا ہے۔ معاشرے میں ہر طرف بے حیائی کا بازار گرم ہے… ہر طرف لوٹ مار، قتل وغارت گری، ظلم وفساد، بے راہ روی، بددیانتی، رشوت خوری، اور دھوکہ دہی جیسی بیماریاں روز بروز پھیلتی ہی جا رہی ہیں اور ان کے پھیلائو سے کوئی انسان پریشان وبے حال نہیں ہوتا… ایک طبقہ تو انہیں وقت کی ضرورت کہتا ہے اور ایک دوسرا طبقہ مجبوری کا بہانہ بنا کر اپنی آنکھیں بند کر یہ سب کچھ دیکھ کرمطمئن نظر آتا ہے۔ آخر اتنا تضاد کیوں…؟ کیا معاشرے میں پھیل رہی بے راہ روی اور فحاشی ہمارے لیے سمِ قاتل نہیں؟ کیا دھوکہ دہی،لوٹ مار، قتل وغارت گری، ظلم وفساد، بے راہ روی، بددیانتی اور رشوت خوری ہمارے معاشرے کے لیے جان لیوا اور مہلک ترین بیماریوں میں سے نہیں …؟ 
اصل حقیقت یہ ہے کہ بنی نوع انسان اچھی طرح سے سمجھ رہا ہے کہ یہ سب مہلک ترین بیماریاں ہیں، ان سے نہ صرف انسانی جان کو خطرہ لاحق ہے بلکہ منجملہ پوری قوم و انسانیت کو نقصان پہنچ رہا ہے، لیکن پھر بھی انسان آنکھیں موندھ کر اندھوں اور بہروں کی طرح زندگی کے یہ گنے چنے ایام گزار رہے ہیں۔ کسی چیز کی بھی فکر نہیں۔ اپنا آج کا دن اچھی طرح سے گزرے، یہی ہماری سوچ بن چکی ہے۔ اسی لیے جب ’’سوائن فلو‘‘ جیسی بیماری کا اعلان ہو جاتا ہے تو دل تھر تھر کانپنے لگتا ہے اور جلد ہی بچائو کی تدابیر کی جاتی ہیں۔ یعنی موت کا کومحسوس کر کے، ’’آج‘‘ کا نقصان نظر آتا ہے، اسی لیے تدابیر کے طور پر ’’ماسک‘‘ وغیرہ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ ’’آج‘‘ کا بچائو اور اس کا خطرہ دیکھ کرکیا جاتا ہے ۔ لیکن وائے افسوس! ’’آج ‘‘ کا خطرہ محسوس کیا جاتا ہے لیکن کل اور آنے والے ایام کے ساتھ ساتھ پوری زندگی، اور عالم انسانیت کو ہونے والے نقصان کا اندازہ ہونے کے باوجود بھی کوئی تدبیر نہیں کی جاتی۔ افسوس… صد افسوس!
زندگی انمول شئی ہے اور جہاں یہ گزر رہی ہو وہاں کا ماحول اس سے بھی انمول ہے۔ اس لحاظ سے ترجیحات کی بنیاد پر اولیت اور ثانویت کی بنیاد پر ہمارا قدم اُٹھنا چاہیے۔ سوائن فلو جیسی مہلک بیماری سے بچائو کی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اُن ساری بیماریوں کا تدارک اور بچائو کی صورتیں نکالنا بھی ضروری اور لازم ہیں جن سے پوری قوم وملت متاثر ہو کر   نیست نابود ہونے کا سبب بن جاتی ہے۔ زندگی قیمتی ہے لیکن جس معاشرے میں ہم جی رہے ہوں وہ کس قدر قیمتی ہے اس کا اندازہ لگانا چاہیے اور پھر اس میں پھیل رہی بیماریوں کا تدارک بھی کرنا چاہیے۔   ٭٭٭٭٭

Friday, 23 January 2015

سیلاب بنام عوام

خود کلامی
..................

میرے پیارے کشمیری بھائیو بہنو!
ماہ ستمبر ۲۰۱۴ کو جب میں نے اپنا جلوہ دکھایا تو لوگ یا تو مجھے مذاق تصور کرتے تھے یا اپنے گھمنڈ اور غرور کے شکار ہو کر اپنی ہی من مانیوں میں مست تھے، ایسے میں جب میں نے اپنا جلال دکھایا تو ڈر کے مارے تم لوگ یا تو بھاگ گئے یا اپنے مال و جائداد کی محبت میں اپنے ہی گھروں میں ٹکے رہے، اور پھر جب میں سر سے گزر گیا توبھاگنے کا راستہ بھی نہ پاگئے۔ دراصل میرا ایک اصول ہے کہ میں آنے سے قبل ’’باخبر‘‘ نہیں کرتا ، میری آمد ایک اشارے کی محتاج ہوتی ہے اور جوں ہی یہ مجھے مل جائے اُسی دم میری آمد آمد ہو جاتی ہے لیکن یاد رہے میں بن بلایا مہمان نہیں ہوتا بلکہ میری آمد کے پیچھے راز ہائے دروں اور اسباب کا فسانۂ عجائب چھپا ہوتا ہے ان کو جاننے کے لیے انسان کے پاس ایک جام ِجم ہے،  جس سے وہ جب چاہے یہ معلوم کر لے کہ مجھے کس نے بُلایااور کیوں۔ ماہ ستمبر کو جب میں نے اپنی آمد کا بگل بجا دیا تو وادی معمول کے مطابق اپنی زندگی جی رہی تھی، کوئی کاروبار میں مست تھا تو کوئی ملازمت میں محو، سکولی بچے امتحانات کی تیاری کر رہے تھے اور کئی لوگ خر چیلی شادیوں کی تیاریوں میں بھی مصروف تھے، ایک طرف لوگ فصلوں کی تیاری دیکھ کر کٹائی کی سوچ رہے تھے تو دوسری جانب لوگ سردی کے لیے انتظامات میں لگے ہوئے تھے کہ اچانک میں نے بستیوں اور بازاروں کھیت کھلیان اور کا رگاہوں میں اپنا ڈیرا جمایا ، لوگ ششدر تھے کہ میں نے نہ آئو دیکھا اور نہ ہی تائو ،بس اوپر چڑھتا ہی گیا، جہاں حکم ملا وہاں کی راہ لی، تم لوگ دوسری سے تیسری اور تیسری سے چوتھی منزل کی جانب بھاگتے  رہے اور میں برابر پیچھا کرتا رہا۔ تم سے میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی بلکہ یہ حکم کی تعمیل تھی، جس حکم کی تعمیل کے آگے کسی اور کا حکم مجھ پر نہیں چلتا۔ میرے آنے سے قبل وادیٔ کشمیر کے بازار کس طرح چمک دمک رہے تھے ،یہ تم سب کو معلوم ہے اور آج بازاروں اور اس میں تجارت پیشہ دکانداروں وغیرہ کی حالت کیا ہے؟ اس سے بھی تم لوگ بخوبی واقف ہو۔ گویا خوشبوئیں بدبو میں تبدیل ہو گئیں۔ شاید دنیا کی اصل حقیقت یہی ہے کہ ہر چیز فانی ہے۔ بہر حال میری آمد تو ہوئی مگر ایک حد پار کر نے کے بعد مجھے بھی آخر کار حکماًرُکنا پڑا ، لیکن اس بیچ کیا سے کیا ہو گیا… اس کا اندازہ بھی تم لوگوںکو نہیں تھا۔
اب جو ہوا سو ہوا، ہونی کو کون ٹال سکتا ہے، لیکن کیا اسی پر بس کیا جائے یا اس پر سوچ کر کچھ کیا جانا چاہیے۔ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ جب بھی اسے کسی مشکل حالت کا سامنا پڑتا ہے تو وہ پہلے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتا ہے، جب مشکلات کے بھنور میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے تو کئی لوگ اپنی ہار تسلیم کر کے ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔ اس وقت یہ ہتھیار ڈال دینا انسان کے لیے فائدہ مند مانا جاتا ہے۔ وادی کے لوگوں پر جب مجھے بھیجا گیا تو لوگوں کی عقلمندی اسی میں تھی کہ وہ ہتھیار ڈال دیں، لیکن کیا کیا جائے کہ اکثر لوگ اب بھی ہتھیار ڈالنے کی نہیں سوچ رہے ہیں۔ اپنی من مانیاں کرنے میں ہی مست ہیں۔ یہ صرف اس وجہ سے کہ شاید اس غلط فہمی میں ہیں کہ یہ سیلاب ایک عارضی معاملہ تھا جو اب ٹل گیا، جان بچ گئی، اب پھر شروع کریں گے لیکن ان کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ جس حکم کی تعمیل میں میں نے یہ سخت ترین جلوہ دکھایا وہ پھر واپس بھی لوٹے گا، اسی کا حکم ایک بار پھر آسکتاہے۔  پہلے میں سیلابی ریلا بن کر آیا ، کیا پتہ خشک سالی ا ور وبا بن کر نمودار ہونے کا حکم ملے ۔میری آمد کئی ایک دوسرے طریقوں سے بھی ہو سکتی ہے، اس وقت میرا مزاج کیا ہو گا اس کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔ اس وقت یہ ہتھیار نہ ڈالنے والے وادی کشمیر کے حق فراموش لوگ مشکلات کے بھنور میں پھنس جائیں گے۔یہ ضروری نہیں اس وقت پھر سے مہلت مل جائے۔ تو یہ ایک مہلت تھی جو تم لوگوں کو دی گئی، اب اگر رواں مہلت میں بھی من مانیاں جاری رکھ کر حاکمِ کائنات اور مد برِ آفاق کے آگے ہتھیار نہ ڈالے تو نہ جانے آنے والا کل تمہارا کل کیسا ہو گا۔ وہ کل جس کے متعلق اب افواہوں کی صورت میں آئے روز اخباروں میں شائع ہورہاہے کہ ’’عنقریب ایک زلزلہ آئے گا جس میں جانی ومالی نقصان کا بھاری خدشہ ہے۔‘‘ غرض یہ ہے کہ گناہوں اورجرائم سے باز اآؤ، اپنی من مانیاں ترک کر لو ، خالق ومالک کے سامنے عاجزانہ انداز میں سرتسلیم خم کر دو ، کردار اور گفتار بدل دو،لوٹ آئو، لوٹ آئو !ورنہ ایک ایسا طوفان آنے والا ہے جس کی زد میں آکر کوئی نہیں بچ سکتا۔ عقل مند لوگوں کی اصل بہادری یہی ہے کہ وہ اپنی خطا ولغزش تسلیم کر کے واحدا لقہار کے سامنے اپنے ہتھیار ڈال دیں۔ اس لحاظ سے وادی کشمیر کے لوگوں سے میری دردمندانہ اپیل ہے کہ جلد از جلد اپنی اَنا چھوڑ کر، اپنی من مانی ترک کر کے، ایک مالک کے حکم کی تعمیل کریں تاکہ پھر سے ان کے لیے آفات وبلیات کا دروازہ نہ کھل پائے ،یہ میری عاجزانہ گزارش ہے  ع
 شاید کہ ُاترجائے تیرے دل میں میری بات

Friday, 2 January 2015

پرانی یادیں اور نئی تیاریاں؟

٭ابراہیم جمال بٹ
.....................

نئے ہجری سال کے بعد اب ایک اور عیسوی سال کی کرنیں نمودار ہوئیں۔ سالِ ماضی جس میں ہم نے بہت سے اُتار چڑھائو دیکھے۔ کہیں پر امن دیکھا تو کہیں بارود کی بو محسوس کی، کہیں خوشیاں دیکھیں تو کہیں غم کے بادل ہی بادل نظر آئے۔ غرض سالِ ماضی بھی بدستور اپنی فطرت پر قائم رہ کر ہر چیز کو سامنے رکھئے ہوئے انسان کو ماضی سے مستقبل کی طرف دھکیل کر آخر کار رخصت ہوا مگر پنے پیچھے ایک تاریخ رقم کر کے انسان کے لیے نصیحت وعبرت کے نشان چھوڑ گیا۔ 
عالمی حالات پر ایک سرسری جائزہ لیا جائے تو یہی کچھ معلوم ہوتا ہے کہ سالِ ماضی بنی نوع انسان کے لیے ایک پیغام چھوڑ گیا…اور وہ پیغام کسی خاص ذات کے لیے نہیں بلکہ عام انسانیت کے نام چھوڑ گیا ہے۔ پیغامات جب بھی بھیجے جاتے ہیں تو ایک عام انسان کے ساتھ ساتھ خاص لوگ بھی اسے دلچسپی کے ساتھ پڑھتے اور سنتے ہیں، بلکہ جس قدر پیغام دینے والا اہم ہو اس کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس پر سوچ سمجھ کرکسی حد تک غور بھی کیا جاتا ہے۔ انسانیت کے نام سالِ ماضی کا پیغام شاید اس سے زیادہ کچھ نہ تھا کہ ’’آئے تھے ہم اِک خوشی کا سامان لیکر اور گئے تو دیکھا غم کی بارش میں تم ہو ڈوبے ہوئے‘‘ چنانچہ سال ماضی ایک عبرت بھرا پیغام ہے انسانیت کے نام… انسان جس نے اپنی فطرت کے خلاف بدستور جنگ چھیڑرکھی ہے… اس کی طرف سے مسلسل اپنی اس غیر فطری جنگ میں شدت ہی لائی جا رہی ہے… غرض پوری دنیا جسے خالق کائنات نے امن کا گہوارہ بنا دیا تھا، جس کی فطرت عدل وقسط پر مبنی تھی، اس دنیا میں جب انسان کو بھیجا گیا تو اس کے بارے میں کہا گیا ’’ کہ انسان کی پیدائش فطرت پر ہوئی ہے‘‘… فطرت امن ہے نہ کہ بد امنی… جب بھی دنیا میں بدامنی یا فساد کا بازار گرم ہوا تو وہ انسان ہی کے ہاتھوں کی کمائی تھی… ’’ظہر الفساد فی البر والبھر بما کسبت ایدی الناس‘‘ ۔ 
’’عقل کا فلسفہ، پیغام اور درس ہے کہ خوش رہو، آباد رہو …’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘ عیش وعشرت اور نازونعم سے زندگی گزارو۔ بس یہی دنیا ہے موت کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے۔ ‘‘ بس یہی وہ چیز ہے جس نے انسان کو عیش کوش بنا ڈالا جس سے اس کی پوری زندگی میں فساد رونما ہوا کیوں کہ اس کی فطرت میں عیش کوشی نہیں تھی بلکہ اس میں عشق کا پیغام تھا کہ شعور کی بیداری کے ساتھ آئو ، خالق کائنات کی بندگی کا راستہ اور طریقہ اختیار کرو اور تمام ان چیزوں سے نہ صرف پرہیز بلکہ مقابلہ بھی کرو جو فطرت کے خلاف ہوں۔آزادی جس کے ساتھ تمہیں پیدا کیا گیا ہے ،آزاد رہ کر زندگی گزارو۔ اصل خوشی اور آزادی یہی ہے کہ تم فطرت پر قائم رہو۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’انسان فطرت میں آزاد تھا لیکن اب نسل در نسل غلام… غلامی کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے… جس آزادی سے پیدا کیا گیا تھا اس کا تصور بھی اس کے لیے حرام۔ پیٹ کے بندے اور پیٹ کے غلام۔ ان کو چاہیے صرف اور صرف روٹی کپڑا اور مکان۔ بہر حال یہ آرزو ہے خام… بلند اور ارفع فطری آزادی کا پیغام… زندگی کا مقدس مقام، فطری آزادی کی زندگی کا ایک لمحہ اور غلامی کی زندگی کا دوام۔ غلام انسان کو اس کی ہے بہت کم پہچان… جس کی وجہ سے پوری دنیا میں ہو رہا ہے بدامنی میں ہمارا بڑا مقام۔‘‘ 
بہر حال سالِ ماضی نے درس عبرت دے کر پھر سے ایک یاد تازہ کر دی کہ اے انسان! تو ہو جا بیدار! اپنی فطرت کا خیال کر! اور فطرت پے قائم ہو کر دنیا میں حاصل کر وہ مقام جس کی بابت تجھے کیا پیدا خالق کائنات نے۔ شر وفساد کے پھیلائو کو روکنے، ظلم واستحصال کے خلاف اُٹھنے، بدیوں کے مقابلے میں اچھائیوں کو پھیلانے کا کام ہاتھ میں لے کر اٹھ اور اپنی فطرت کاوہ نمونہ دکھا جس سے پوری بنی نوع انسان باخبر ہو جائے کہ اصل فطرت اور اصل آزادی کا تصور کیا ہے؟ 
ہر نیا سال انسان کے لیے ایک نیا میقات لے کر آتا ہے اس سال کا میقات سالِ ماضی کو دیکھ کر عبرت و نصیحت حاصل کرنی ہے… کیا کھویا اور کیا پایا… ؟اس پر غور کرنا ہے… کہاں جکے، کہاں بکے…؟ کہاں مرے ، کہا جئے… ؟ کیا کیا اور کیا کرنا تھا…؟ ان سب پر غور کرنا ہو گا، سوچ سمجھ کر ،صحیح راستہ اختیار کر کے اس نئے سال میں نئی شروعات کرنی ہے،یہی سالِ نو کا پیغام ہے اور یہی انسانی فلاح وکامیابی کا زینہ ہے۔ 
اگر اس نئے میقات میں انسان نے وہی کچھ کیا جو سال ماضی میں کرتے رہے،تو نہ جانے آگے جاکر ہمارا کیا حال ہو گا…؟ لیکن خالق کائنات نے اس بارے میں صاف کر دیا ہے کہ انسان نے اگر ظلم کی روش پر اپنی زندگی گزاری تو عنقریب وہ وقت آئے گا جب ـ:
’’اور ذرا اُس وقت کا خیال کرو جب اللہ کے یہ دشمن (ظلم کرنے والے) دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لائے جائیں گے اُن کے اگلوں کو پچھلوں کے آنے تک روک رکھا جائے گا۔ پھر جب سب وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم کی کھالیں ان پر گواہی دیں گی کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔وہ اپنے جسم کی کھالوں سے کہیں گے تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟وہ جواب دیں گی :ہمیں اُسی خدا نے گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویا کر دیا ہے، اُسی نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور اب اُسی کی طرف تم واپس لائے جا رہے ہو۔ تم دنیا میں جرائم کرتے وقت جب چھپتے تھے تو تمہیں یہ خیال نہ تھا کہ کبھی تمہارے اپنے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے جسم کی کھالیں تم پر گواہی دیں گی بلکہ تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ تمہارے بہت سے اعمال کی اللہ کو بھی خبر نہیں ہے۔ تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا تھا، تمہیں لے ڈوبا اور اسی کی بدولت تم خسارے میں پڑ گئے۔ اس حالت میں وہ صبر کریں (یا نہ کریں) آگ ہی ان کا ٹھکانا ہو گی، اور اگر رجوع کا موقع چاہیں گے تو کوئی موقع انہیں نہ دیا جائے گا ۔ ہم نے ان پر ایسے ساتھی مسلط کر دیے تھے جو انہیں آگے اور پیچھے ہر چیز خوشنما بنا کر دکھاتے تھے، آخر کار اُن پر بھی وہی فیصلہ عذاب چسپاں ہو کر رہا جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جنوں اور انسانوں کے گروہوں پر چسپاں ہو چکا تھا، یقیناً وہ خسارے میں رہ جانے والے تھے ۔‘‘(حٰمٓ سجدہ)
سال نو کی آمد مبارک ہو مگر یہ دیکھنا ضروری ہے کہ سالِ ماضی کا کیا پیغام ہے…؟ ’’ بنی نوع انسان کو پیام اور پیغام دیا جاچکا ہے اور آج کے دور اور ابتدائے آفرینش سے جب جب انسان اس اِلٰہی اور ابدی ہدایت کے راستے سے منحرف ہوا ہے وہ اپنے لئے بھی اور پوری انسانیت کے لئے بھی تباہی اور بربادی کا سبب بنا ہے۔… انسان کا اصل کام اور مقام یہ ہے کہ وہ آنکھیں کھول کر حق کو دیکھے، یہی اُس کی بندگی کا تقاضا اور مطالبہ ہے۔ اپنے آپ کو پہچاننا اور کسی چیز کو اس پہچان میں حائل نہ ہونے دینا، اصل زندگی ہے۔ جب آج کا بندہ زندگی کے حقائق کو پہچانتا اور بندگی کے فرائض انجام دیکر اس کو زینت بخشتا ہے تو خود باری تعالیٰ اس بندے پر رحمت برساتا اور اُس کو اپنی عنایات اور نوازشات سے نوازتا ہے۔ ٭٭٭٭