Monday, 23 June 2014

قلت وکثرت ایک لاحاصل بحث

٭ابراہیم جمال بٹ
....................


تاریخ اس بات پرگواہ ہے کہ دنیا میں جہاں بھی کوئی انقلاب آیا اس کااکثریت کے بجائے اقلیت نے ہی ساتھ دیاہے۔ ہر دور میں کسی نہ کسی سطح کے انقلابات آئے ، جن میں کئی عوامی انقلابات تھے اور کئی سیاسی سطح کے انقلابات، کہیں اصلاحی تحریکوں نے اصلاحی انقلاب لائے تو کہیں سماجی، سیاسی، معاشی اور اسی طرح دیگر انقلابات لائے گئے، غرض جس قسم کا بھی انقلاب آیا، اس کے لانے والے اکثریت میں نہیں اقلیت میں رہے ہیں۔ حتیٰ کہ اکثر مذہبی انقلابات بھی اقلیت میں شمار لوگوں نے لائے بلکہ وہ بھی ایک قلیل تعداد کی وجہ سے ہے لائے جا چکے ہیں۔ چنانچہ اس تناظر میں آج کے حالات پر غور کیا جائے تو دنیا میں فی الوقت کئی ایسی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جن سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ آئندہ اس دنیا میں ایک ایسے انقلاب کی خاموش آواز سنائی دے رہی ہے جس سے پوری دنیا میں ایک تبدیلی رونما ہو گی۔ اس قدر تبدیلی کہ دنیا میں بسنے والے لوگ اس انقلاب کے بیچوں بیچ اپنے آپ کو پُر سکون محسوس کریں گے۔ اس کی صدائیں آج پوری دنیا سے آرہی ہیں، یہ انقلاب آئے گا لیکن اس انقلاب کو لانے والا نہ تو کوئی خاص قوم ہو گی اور نہ ہی کوئی خاص ذات، بلکہ اس انقلاب کولانے والا دنیا کی ایک قلیل تعداد ہو گی، جس سے تاریخ کے اوراق پر ایک بار پھر سنت الٰہی کا وہ قاعدہ سامنے آئے گا کہ ایک چھوٹی سے جماعت پوری قوم، انسانیت، اور دنیا میں بسنے والے لوگوں کے لیے باعث ِفخر ،امن وسکون کا موجب قرار پائے گا۔ یہ چھوٹی موٹی جماعت جس کی افرادی قوت اگرچہ مخصوص اور قلیل تعداد ہو گی، تاہم ان میں ایسا ولولہ اور جزبہ ہو گا جو قلت کے باوجود اکثریت پر غالب ہو کر انقلاب کا باعث بن جائیں گے۔ سابقہ تواریخ کی ورق گردانی بھی کریں تو یہی کچھ سمجھ آتا ہے کہ انقلاب کثرت (Quantity) نہیں بلکہ (Quality)چاہتی ہے اور جب بھی کوئی انقلاب آیا تو اسی اصول پر آیا۔ غرض آج جس انقلاب کی باتیں ہو رہی ہیں وہ تو دیر سویر آکر ہی رہے گا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس میں ہمارا کس قدر حصہ ہو گا۔ لہٰذا اس کے لیے ہمیں سب سے پہلے انقلابی صفات پیدا کر کے، اپنے اندر ولولہ وجذبہ ٔانقلاب پیدا کرنے کی ضرورت ہے، اور یہ ولولہ اور جذبۂ انقلاب کوئی ایسی چیز نہیں کہ انسان چاہے تو حاصل کر سکتا ہے،بلکہ اس جذبہ اور ولولہ کے لیے ایک سہارے کی ضرورت پڑتی ہے اور وہ سہارا ہے خدائے ذوالجلال۔ خدا کا فضل ۔ انسان کی کوشش اور مسلسل استقامت کے ساتھ اللہ کی تائید و نصرت کا خیال کرتے ہوئے انقلاب کی خواہش رکھنا ہی انقلاب برپا ہونے کی دلیل ہے۔ آج جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں وہاں بہت سارے لوگ جو اپنے آپ کو ’’داعیٔ انقلاب‘‘ کے طور پر جانے جاتے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ انقلاب ایک ایسی شئے ہے کہ ایک بڑی تعداد کو  جمع کر کے انقلاب لایا جا سکتا ہے، لیکن ان کی یہ سوچ تب تک ’’خیالی سوچ ‘‘ہی کہلائے گی جب تک نہ ان کے اندر اس بات پر ایمان مستحکم ہو جائے کہ’’ انقلاب میں قلیل و کثیر کی کوئی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ قلیل ہی اکثر و بیشتر کثرت پر غالب ہو کر اس کے باعث بن چکے ہیں‘‘ حق اور ناحق کا فیصلہ کرنا ہو تو یہ ضروری نہیں کہ اکثریت جس طرف ہو، وہی حق اور قلت جس جانب ہو گی وہی ناحق کہلائیں گے بلکہ تاریخ ِاسلامیہ میں یہ رقم طراز ہے کہ میدان اُحدمیں جب جیت مسلمانوں کی ہو رہی تھی تو صحیح اور غلط میں تمیز کرنا خدائے ذوالجلال کا اصل منشا ء تھا، قلت وکثرت کی عمومی سوچ پر ضرب لگانی مقصود تھی، کہ جس مختصر سی جماعت کو جو غالباً چالیس صحابیوں سے زیادہ نہ تھے کو ایک درّے پر رکھ دیا گیا، جنہیں حکم دیا گیا تھا کہ جو کچھ بھی جنگ کا فیصلہ ہو ، اس درّے سے نہ ہٹنا، اورجب مسلمانوں نے کفار کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور وہ پیٹھ پیچھے بھاگتے نظر آئے ، تو اس درّے پر یہ جانثار صحابی جنہیں اللہ کے آخری ومکمل پیغمبر حضرت محمد مصطفی ﷺنے اس درے سے کسی بھی حالت میں نہ ہٹنے کا حکم دیا تھا جب انہی میں سے ایک بڑی تعداد (غالباً 40میں سے30) نے اس درّے سے ہٹتے ہوئے مالِ غنیمت وغیرہ جمع کرنا شروع کیا تو جنگ کی دوسری ہی حالت سامنے آئی۔ جس درّے پر چالیس مسلمانوں کا پہرا تھا اس پر اب چند گنے چنے مسلمانوں ہی رہے… جیت کے اس لمحہ میں جنگ کے دوران ایسا پلٹ وار ہوا کہ بے شمار مسلمان شہید ہو گئے… لیکن اس قلیل اور کثیر کے فیصلے پر ایک ضرب لگانی تھی سو اللہ تبارک وتعالیٰ نے پیغمبرِ اسلامﷺ کے ذریعے سے مسلمانوں تک یہ پیغام پہنچا دیا کہ جو قلیل تعداد ہونے کے باوجود، جیت کا سماں دیکھتے ہوئے بھی درّے پر ہی برابر کھڑے رہے، اگرچہ ان کی تعداد میں اب تین حصے کم ہو گئے تھے، وہی اس وقت صحیح تھے بجائے کثیر تعداد کے۔ غرض اس دنیا میں جب بھی کوئی انقلاب آیا تو اس انقلاب میں قلیل وکثیر بحث ایک لاحاصل عمل رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے جو تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی ہوئی ہے کہ انقلاب کثرت تعداد نہیں بلکہ خصوصیات کے حامل لوگوں کو دیکھتی ہے۔ آج بھی اگر ہم دیکھیں تو کئی لوگ اسی زعم میں مبتلا ہیں کہ ایک بڑی تعداد جمع کی جائے تاکہ ایک انقلاب لایا جائے لیکن ان کے سامنے اسلامی تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں کہ انقلاب ہمیشہ انقلابی لوگوں نے لائے ہیں اور وہ لوگ اکثر وبیشتر قلیل ہی ہوتے آرہے ہیں۔ چنانچہ ان حالات میں عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو یہی کچھ سامنے آرہا ہے کہ جہاں بھی کوئی اصل تبدیلی آئی اس کے پیچھے مخصوص اور محدود صالح عنصر کارفرما تھا ۔ آج دنیا کے جس کونے میں بھی دیکھیں تو بظاہر بے شمار تبدیلیوں کے اشارے مل رہے ہیں لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ جن سے تبدیلیوں کا اشارہ مل رہا ہے ان کا بھی یہی ذہن بن چکا ہے کہ جب تک نہ افرادی قوت میں اضافہ ہو جائے کوئی مضبوط اور مستحکم انقلاب نہیں لایا جا سکتا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم اسلامی تاریخ کا ہی مطالعہ غور سے کریں تو وہاں بھی یہی کچھ نظر آتا ہے کہ ایک طرف پوری عرب دنیا اور دوسری جانب مسلمانوں کی ایک قلیل تعداد ہے، لیکن اس کے باوجود بھی اسلامی انقلاب آیا … ایسا انقلاب کہ جس نے اپنے پیچھے آج تک اپنے وہی اثرات چھوڑے ہیں کہ آج بھی اسی انقلاب کی باتیں ہی نہیں بلکہ انتظار ہو رہا ہے۔ اس سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ اسلامی انقلاب کی آمد آمد کی جو آج کل باتیں ہو رہی ہیں، انشاء اللہ وہ اصل صورت میں آئے گا، لیکن اس کے لیے کسی ایسے خیال میں رہنا کہ جب لوگوں کی ایک جم غفیر جمع ہو گئی تو یہ انقلاب آئے گاایک لاحاصل سوچ ہے جس کا حاصل کچھ نہیں ہے۔ 
٭٭٭٭٭

روزہ کی غا یت اولیٰ .............انقلاب کے بد ن میں اصلا ح کی روح

٭ابراہیم جمال بٹ

....................


ہر سال کی طرح امسال بھی ایک بار پھر ماہ رمضان کی مبا رک دستک سنا ئی دے رہی ہے۔ اہل ایمان اس ماہ مقدس کے انتظار میں ہمیشہ بیتاب وبے قرار رہتے ہیں۔ یہ اسی مہینے کا ثمرہ ہے کہ گناہ گار انسان نہ صرف پچھلے تمام گناہوں کو سامنے لا کر ان کو خدا کے حضور معاف کرانے کے لئے اس کی چوکھٹ پر گویا دھرنا دے کر بیٹھتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ یہ با بر کت مہینہ ایک آئینہ ہے جو مومن اور مسلمان کے ظاہر وبا طن کی پہچان کراتا ہے کہ وہ اصلاً کیا ہے، کس حال میں ہے اور اس کی اصل کامیابی و ناکامی کن امور اور اعمال میں پنہا ں ہے۔ یہ اسے دیکھنے اور سنبھالنے کا سنہری موقع فراہم کرتا ہے کہ اس کو کہا ں کہا ں صفائی اور پاکی حا صل کر نے میں لگ جا نا ہے۔ چناں چہ حقیقتِ صیام کو سمجھنے کے لیے مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی وہ مثال کافی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ:
’’سکتہ کے مریض کا آخری امتحان اس طرح کیا جاتا ہے کہ اس کی ناک کے پاس آئینہ رکھتے ہیں۔ اگر آئینہ پر کچھ دُھندلاہٹ پیدا ہو تو سمجھتے ہیں کہ ابھی جان باقی ہے، ورنہ اس کی زندگی کی آخری امید بھی منقطع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کی کسی بستی کا تمہیں امتحان لینا ہو تو اسے رمضان کے مہینے میں دیکھو۔ اگر اس مہینے میں اس کے اندر کچھ تقویٰ، خوفِ خدا، کچھ نیکی کے اُبھار کا جذبہ نظر آئے تو سمجھو ابھی زندہ ہے، اور اگر اس مہینے میں نیکی کا بازار سرد ہو، فسق وفجور نمایاں ہوں، اور اسلامی حس مردہ نظر آئے تو ’’انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ لو‘‘ اس کے بعد زندگی کا کوئی سانس مسلمان کے لیے مقدر نہیں ہے‘‘۔
شاعر مشرق علامہ اقبالؒنے فرمایا ہے    ؎
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
ماہ رمضان المبارک انسان میں تبدیلی لانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ گمراہی، بد عملی یا گناہ سرزد ہو نے کے بعد اگرایک ایما ن والے میں صحیح اسلا می ہدایا ت و تعلیمات کی طرف رحجان نہ بڑھے تو اس کا خسارے میں پڑ جانا یقینی ہے۔ ماہ مبارک کا یہی پیغام اور یہی کام ہے کہ ایسے شخص کو پھر سے تائب ہوکر ایمان اور نیک عملی کی طر ف بڑ ھنے کا حو صلہ ملے۔ چناں چہ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ:
’’جب عالم انسانیت میں اخلاق و کردار کے چشمۂ سافی سوکھنے لگتے ہیں، روحانیت دم توڑنے لگتی ہے، چمنستان قلوب میں ویرانی چھا جاتی ہے، گلستانِ خیر و خوبی کی رعنائیاں شروفساد کی ظلمتوں میں بدل جاتی ہیں اور انسانیت سسکنے لگتی ہے تو رحمتِ خدا وندی جوش میں آجاتی ہے۔ گردش لیل و نہار نیکی وتقویٰ کی بہار کا مژدہ سناتی ہے اور عالم روحانیت میں ایک ہمہ گیر انقلاب کا سماں برپا ہونے لگتا ہے۔ہمہ گیر ایسا کہ اس کی آمد کا اعلان کسی خطۂ زمین پر نہیں بلکہ پورے عالم پر ہلالِ رمضان المبارک کی نمود سے ہوتا ہے۔ وسعت تغیرات کی یہ شان کہ ابتدا ہی جنت کے تمام دروازوں کے کھلنے اور دوزخ کے سارے دروازے بند کئے جانے سے ہوتی ہے۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے: ’’جب رمضان المبارک آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں۔‘‘ایک اور روایت میں ہے’’اور جہنم کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں اور شیاطین باندھ دیئے جاتے ہیں‘‘۔ (متفق علیہ) وقت ، مقدار، کمیت اور کیفیت کے سارے پیمانے بدل دئے جاتے ہیں۔ اجر وثواب کی مقدار بڑھا کر معمول سے 70گنا بلکہ لامحدود کر دی جاتی ہے۔ اس ماہ مبارک کی ایک رات ( شب قدر)ہزار راتوں سے زیادہ افضل قرار دی جاتی ہے۔ عرشِ بریں کے حامل فرشتوں کو حکم خدا وندی ملتا ہے کہ اپنی عبادت بند کر دو اور اہل زمین کی دعائوں میں شامل ہو کر آمین کہو۔ آسمانوں کا یہ سارا انقلاب اس لئے برپا کیا جاتا ہے کہ زمین پر آباد مرکز ِعالم اور مسجود ِملائک انسان کی دنیا کو ایک اندرونی انقلاب سے دوچار کرنا مقصود ہے۔ اس طرح عالم انسانیت میں ایک ایسا انقلاب رونما ہونے لگتا ہے جس کی وسعت بے پناہ اور جس کا نفوذ بے انتہا ہو جاتی ہے‘‘۔
غرض رمضان المبارک انسان کی تبدیلی، احتساب اور جائزے کا مہینہ ہے، اور اس مہینے میں انسان اگر صحیح معنوں میں اپنا احتساب کرے تو اس کی کامیابی و کامرانی اس کے نصیب میں درج کی جاتی ہے اور اگر اس ماہ میں بھی انسان نے اپنا جائزہ و احتساب نہ لیا تو انسان کے ساتھ ساتھ انسانیت کے لیے اس کا رہنا ایک طرح کا فساد بن جاتا ہے۔ احتساب و جائزہ لینے کے لیے ہمارے پاس دو مضبوط قلعے رکھے گئے ہیں جن میں رہنا اور سہنا ہماری کامیابی اور جن سے باہر نکل کر دوسرے نام نہاد ’’ جا ئے پناہ‘ ‘کی تلاش کرنا گمراہی و ضلا لت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اللہ کی اطا عت کرو اور رسو ل کی اطاعت کرو۔‘‘
اسلام کا نظام ِحیات جس میں انسانیت کی فلاح و کامرانی مضمر ہے، وہ صرف اور صرف قرآن اور رسول خداﷺکی تعلیمات پر عمل پیرا ہو نے سے مشروط ہے۔ ماہ ِمبارک میں انسان اگر خود اپناجائزہ لے تو پیمانہ صرف یہی قرآن اور اس کی تشریح محمدﷺکی سنت قرار پائے گی۔ اس سے الگ ہو کر کسی اور جگہ فلاح و کامرانی تلاش کرنا فضول اور لاحاصل عمل ہے۔ اسی لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس ماہ مبارک میں قرآن کا نزول کیا۔اللہ تعالیٰ کا ار شاد گرامی ہے:
’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت (فلاح و کامرانی) ہے اور ایسی واضح تعلیمات جو راہ راست دکھانے والی اور حق وباطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں‘‘۔(البقرہ)
گویا اگر اس ماہ مبارک کو ماہ قرآن کہیں تو صد فیصد درست ہو گا۔ یہ رب العالمین کا بے انتہا کرم و احسان ہے کہ وہ ہر سال ماہ ِرمضان کے بہا نے انسانیت پر اتمامِ نعمت، یعنی نزول قرآن سے شعور و آگاہی کا موقع بہم پہنچاتا ہے۔ ماہ رمضان دراصل علامتی یاد ہا نی ہے نزول قرآن کے انقلا ب واصلا ح کی ندائے خدا وندی کی۔ یہ صرف یادہا نی ہی نہیں بلکہ انقلاب کا پیام بھی ہے اور ساتھ ہی اس مہینے کو ان تمام صفات و خصوصیات سے نوازا گیا جو انقلاب اور صلح کل کے لئے معاون وسازگار ہوتی ہیں۔ اس ماہ مبارک کو اعمال خیر و صلاح کی فصل و بہار والی تاثیر عطا ہوتی ہے۔
اس زاویۂ نگاہ سے ماہ رمضان المبارک کو ماہ انقلاب کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا، کیوں کہ انسانی بستوں میں یہی ’’ماہِ انقلاب‘‘ نیک اعمال کا باعث بن جاتا ہے۔ زمین کا چپہ چپہ قانون خدا وندی کے حکم کے سامنے سر نگو ں ہو نے کا اظہار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ہر طرف تکبیرات، تسبیحات خدا وندی اور اس کے دربار میں عاجزانہ مناجات وردِ زبا ن ہو جا تے ہیں۔ اس ماہ مبارک میں منزل مقصود کی نشان دہی بھی ہے اور راہ ِہدایت سے آگاہی بھی، راہ روی کی تربیت بھی ہے اور رہبری کا ساماں بھی، سفر کی سہولتیں بھی اور ہر منزل آ شنا ئی پر انعام بھی۔ اس ماہ مبارک میں رحمتوں کی بارش بھی ہوتی ہے ، مغفرت کی بخشش بھی اور نارِ جہنم سے نجات بھی۔ سابقہ اعمال وافعال کا جائزہ لینے پر جنت الفردوس کی نعمتوں اور رفعتوں کی لذت آشنائی بھی ہوتی ہے۔ راہِ حق کی منزل کے حصول کے لئے اسے صراط مستقیم، یعنی دین اسلام کی مکمل رہنمائی میسر ہوتی ہے۔ تقویٰ اور احساسِ ذمہ داری کا زادِ راہ اس کے ہا تھ میں تھما دیا جاتا ہے۔ پاک و مطہراجتماعی ماحول کے ذریعے راہ کی مشکلات کو آسان کر دیا جاتا ہے اور اس راہ پر چلنے کے لیے بے حساب اجر وثواب کی امید بھی دلا ئی جاتی ہے۔
یہ سارا کچھ اس ماہ مبارک میں انسان کو اس لئے عطا کیا جاتا ہے تاکہ ایک صاحب ایمان کا مقدر سنور جائے، اسے فلاح وکامیابی نصیب ہوجائے اور وہ ابدی زندگی کی خو ش کن فضا ؤ ںسے ہم کنار ہو جائے۔ اسی ماہ قرآن کا نزول ہوا جس کا صاف اور واضح مطلب یہی ہے کہ یہ مہینہ انسان کی واحدراہ ہدایت کا مہینہ ہے کیوں کہ قرآن تمام عالم انسانیت کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا ہے۔
قرآن پاک کے نزول کا یہ مہینہ ہمیشہ سے انسان کو پکارتا رہا ہے کہ:
’’ آئو اس قرآن کو سب مل کر مضبوطی سے پکڑو ‘‘۔ ’’بے شک ہم نے تمہاری طرف کتاب (قرآن) نازل فرمائی، جس میں (اے انسان) تمہارا ہی ذکر موجود ہے‘‘۔ اس کتاب کے ذریعے اللہ تعالیٰ کچھ گروہوں کو بلند و سرفراز کرے گا اور کچھ دوسرے گروہوں کو پستی میں جھونک دے گا‘‘۔
غرض یہ ماہ ِمبارک جس میں قرآن کا نزول ہوا، جو انسان کی فلاح وکامرانی کے لیے بھیجا گیا، جس میں بحیثیت انسان ، انسان کا ہی ذکر ہے اور جس پر چل کر لوگ بلند و بالا مقام کے حقدار قرار دئے جاتے ہیں اور جسے ٹھکرا کر انسان تباہی و بربادی کا حقدار قرار پاتا ہے۔ انسان اگر خود کا جائزہ لے تو اسے معلوم ہو گا کہ قرآن کریم اس کے دل کی آواز ہے ، یہ اسے اس کا آئینہ دکھاتا ہے، اسے واضح طور بتاتا ہے کہ تو کیا ہے، کیا تھا اور مو جودہ عالم آ ب وگل اورآ نے والی دنیا میںکیا ہو گا؟ انسانی دنیا کی کا میابی کے لئے مخصوص یہ صاف وشفاف دستور العمل دنیا میں اگر کہیں موجود ہے تو وہ صرف اور صرف قرآن کی شکل میں موجود ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جس نے بھی اس قرآن کو مضبوطی کے ساتھ تھام لیا اس کی دنیا اس قدر سنور گئی کہ صدیاں گزرنے کے باوجود ادب واکرام کے ساتھ ساتھ ان کی تقلید کی جا تی ہے۔ نہ صرف ان کی یہ عارضی دنیا سنور گئی بلکہ آخرت کی دائمی خوشخبری بھی ان کی مقدر بن گئی۔ قرآ ن مجید کی معجزہ نما ئی سے یہ ہوا کہ کل تک جو گمراہ تھے وہ تمام عالم انسانیت کے لئے روشن چراغ کے مانند قرار د ئے گئے اور ان چراغوں کی روشنی کے سہارے جس نے اپنی زندگی سنوارنی کی کوشش کی تو اسے ہدایت یافتہ مانا گیا۔
ماہ مبارک کی شان یہ ہے کہ اس میں عالم انسانیت کے لیے درسِ ہدایت کا پیغام مخفی ہے۔ یہ ماہ کسی خاص رنگ و نسل، لسانی گروپ ، جغرا فیہ یا کسی مخصوص زما نے کے لئے نہیں ،بلکہ عام انسان کے لئے ، ہر طبقے کے لئے ، ہر زما نے کے لئے ، ہر مقام کے لئے ایک پر درد آواز ہے، ایک پیام انقلاب ہے، ایک صالح نظام کی طرف دعوت ہے۔
چناں چہ اس پر امن اور عالم انسانیت کے پیغام کو عام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس وقت عالم انسانیت بکھری پڑی ہے۔ اس میں بہت سارے کنفیوڑن پیدا کئے جاچکے ہیں۔ کہیں انسانیت کو خدا بیزاری اور الحاد کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے تو کہیں اسے سوشلزم کا ساحرانہ درس دیا جاتاہے، کہیں اس کے سامنے قوم پرستی کا سبز باغ رکھا جاتا ہے تو کہیں لادین جمہوریت کا میٹھا زہر پلا کر اسے مدہوش کیا جاتا ہے لیکن یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی انسانیت روز بہ روز پستی کی طرف ہی اترتی جارہی ہے۔ سب کچھ آزمایا گیا ، اِزمو ں اور فلسفو ں کو ناپا گیا ، تجربات اور حسین دعوؤ ں کے سہا نے سپنے دکھا ئے گئے ، امن ، ترقی ، احترام آدمیت کے ترانے بجا ئے گئے ، خو شحالی اور مساوات کے وعدو ں کی خوب سوداگر یا ں کی گئیں مگر نتیجہ صفر۔ اس ساری فضو ل مشق میں اگر ایک بار بھی نہ آزمایا گیا تو وہ صرف اور صرف اسلام کا نظام حیات ،قرآن اور محمدﷺکی سنت، خلفائے راشدین اور تبع وتابعین اور اولیا ئے کرامؒ کے بے عیب مشن اور ان کی روشن سیر تو ں اور نقوش ِپا کو نہ آزمایا گیا۔ اس لحاظ سے ایک بار پھر قرآن کا، نظام حیات کے پیغام کا، عالم انسانیت تک اصل نظام اور صحیح راہ پہنچانے کا مہینہ رمضان المبارک کل پرسو ں سے شروع  ہو نے والاہے، جس میں مسلمان خصوصاً نوجوان اپنے آپ کو قرآن کے رنگ میں رنگ کر ’’صبغۃاللہ ‘‘دوسرو ں کے واسطے پیغام ِ امن وسلامتی لے کر اٹھیں، کیوں کہ پیغام رمضان یعنی قرآن کی تعلیمات اور احکا ما ت کو عام انسانیت تک پہنچانے کا اگر کو ئی ظا ہر ی ذریعہ ہے تو وہ یہی مسلم نوجوان ہے۔ اس لحاظ سے ان پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اٹھیں اور خو د کو صیام کے اسپرٹ میں ڈھا ل کراپنی ذمہ داریوں اور فر یضے کے عین مطابق دنیا کے سامنے صاف وشفاف پیغامِ الٰہی کو پیش کریں۔ یہ پیغام نہ صرف خود ان جوانو ں کے لئے بے انتہا فائدہ مند ہے بلکہ تمام عالم ِانسانیت کے لیے فضائے امن وسلا متی کا ضامن بھی ہے۔
دنیا فساد کی لپیٹ میں اس قدرآچکی ہے کہ کہیں نکلنے کا کوئی اشارہ تک دکھائی نہیں دیتا۔ اس پُر طہا رت ماحول میں رمضان المبارک کا یہ پا ک ومقدس مہینہ جس کاایک بار پھر بس ظہور ہونے ہی والا ہے، پکار پکار کر ہم سب مسلمانوں کو اپنی پہچان بہ حیثیت امت وسط اور نیکی کا حکم کر نے والا اور بدی سے رو کنے والی امت کے طور کرا نے کی تلقین کر تے ہو ئے ضبط ِ نفس اور بلا چو ن وچرا صرف اللہ کے سامنے ہر اعتبار سے سر نڈر کر نے کی ہدایت دیتا ہے۔ ہما ری کو شش ہو نی چا ہیے کہ اس ہد ایت کو اپنی عملی زندگیو ں کا گہنہ بنا نے کا عز م با مصمم کر یں۔ اللہ ہمارا حافظ و نگہبا ں ہو۔
٭٭٭٭٭


Monday, 26 May 2014

مودی ۔۔۔ آر پار کایار ؟...................ہر زماں ہے امتحاں کہ ہرنفس ہے احتساب

.............
 نریندر مودی نے آج انپے عہد ے کا حلف ایک شاندار تقریب میں اٹھایا اور اب وہ رسما بھارت کے نئے وزیراعظم ہیں ۔ انہوں نے دن کی شروعات راج گھاٹ میں گاندھی کی سمادھی پر  گل باری اور پرارتھنا سے کی ۔ اور بعد ازاں حلف لیا۔ حلف برداری کے فنکشن میں ان کے پاکستانی ہم منصب نواز شریف کے علاوہ سارک ممالک کے سربراہوں کی شرکت نے محفل کا ایک الگ ہی سماں باندھا۔ راج گھاٹ پر مودی کی اولین فرصت میں حاضری دینا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ گاندھی واد کے شیدائی ہیں اور نتھو رام گوڈسے کی اس فلاسفی سے ان کا کچھ لینا دینا نہیں جو اس نے آر ایس ایس کی کوکھ میں سیکھی۔ یہ اگرنمائشی معاملہ نہ ہو تو خود میں ایک بہت بڑی پیش رفت ہے ۔بھارت میں پارلیمانی انتخابات کے بعد جو چونکا دینے والے نتائج سامنے آئے انہیںدیکھ کر یہ واضح ہو گیا کہ ملک میں وہ لوگ جنہوں نے اس الیکشن میں عملی طور حصہ لے کر ووٹ ڈالا ، چاہتے ہیں کہ برسوں پراناخاندانی نظام کا خاتمہ ہو اور ایک نئی سیاسی تبدیلی آئے تاکہ ان کے مسائل حل ہوں اور مصائب ٹل جائیں۔ الیکشن کے نتائج سے ہی یہ واضح ہو گیا کہ جس مودی لہرکی باتیں چہارر سُوہو رہی تھیں اسی لہر نے آخر کار خاندانی راج کا خاتمہ کر کے ایک ایسی عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا کہ پوری دنیا دیکھتے ہی رہ گئی۔ کئی لوگوں کا عندیہ ہے کہ بھارت واسیوں نے ہندو توا کو ووٹ دے کرجتایا جب کہ کئی ایک طبقاتِ فکر الیکشن نتائج کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔۔۔ایک ایسی تبدیلی جس سے خزاں آلودہ فضا میں ایک بہار آجائے اور بھارت دیس ایک ایسا ملک بن جائے جہاں فتنہ وفسادکا خاتمہ اور مسائل کا نپٹارا ہو ۔ بہرحال مودی لہر نے اپنا پہلا جلوہ دکھایا اور دیس اور دنیا پر واضح کر دیا کہ بھارت واسی فکر وعمل کی تبدیلی کے خواہاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ ملک تعمیر وترقی اور سکھ شانتی کی پٹری پر آجائے۔ بھارت کے نو منتخب وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی تاج پوشی کے حوالے سے صدر ہند پرنب کمار مکھرجی کے نام پیغام قبل از وقت ببھجوا دیا کہ روایت سے ہٹ کر وہ وزیر اعظم کا حلف راشٹر پتی بھون کی چار دیواری کے اندر نہیں بلکہ کم وبیش تین ہزار مہمانوں سے بھرے دربار کو لے کر اس بھون کے آنگن میں لیں گے۔ ان کی اسی خواہش کے عین مطابق 26مئی کو یہ تقریب ہوئی جس میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی شرکت سے مودی کے ساتھ ساتھ ان پر عالمی میڈیاکی آنکھیں مرکو زرہیں۔ یاد رہے کہ انہیں خصوصی دعوت نامے بھیجاگیا تھا۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے پہلے ہی جب انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوا ، بھارت کے نومنتخب وزیر اعظم نریندر مودی کو مبارک باد دیتے ہوئے اس بات کا کھل کراظہار کیا کہ نئی سرکار کی آمد سے یہ امید اور توقع رکھی جا سکتی ہے کہ آئندہ ہند پاک مذاکرات کا دروازہ کھل جائے گا اور تمام مسائل کا حل نکالنے کی بھر پور کوشش کی جائے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان جو تلخیاں اور سردمہریاںپائی جاتی ہیں، ممکن ہے بھارت میں اس کلیدی اہمیت کی حامل سیاسی تبدیلی سے واجپائی ودر کی یادیں تازہ ہوںجب آر پار اعتماد سازی کے بہت سارے اقدامات کئے گئے۔ بھارت پاک تعلقات کے حوالے سے جو آئے روز میڈیا رپورٹیں سامنے آرہی ہیں ان سے کچھ نیا ہونے کے اشارے ملتے ہیں بلکہ کئی مباحثوں اور میڈیا رپورٹوں سے ایسا تاثر جھلکتا ہے کہ شاید دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کچھ تبدیلیاں آئیں گی۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان کے سابق سفارت کار اور بھارت کے خلاف سخت رویہ رکھنے والے کئی پاکستانی لیڈروں نے بھی دوطرفہ تعلقات میں بہتری کی خوش امیدیاں ظاہر کی ہیں۔ حال ہی ایک مباحثے میں سخت رویہ اختیار کرنے والے پاکستان کے سابق سفارت کار ظفر ہلالی نے کہا کہ’’ نریندر مودی کی جیت کے فوراً بعد بغیر کسی تاخیر پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے مودی کو نہ صرف مبارک باد دی بلکہ بھارت کے ساتھ نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا جس کے بعد نریندر مودی نے حلف برداری کی تقریب میں نواز شریف کو مدعو کیا‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’بی جے پی کی سرکار سے پاکستان کے تعلقات دوسری حکومتوں کے بالمقابل بہتر رہنے کی توقع ہے۔‘‘ نئی دہلی میں پاکستان کے ایک اور سابق سفیر شہر یار خان نے بھی اسی طرح کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’ شروعات بہتر ڈھنگ سے ہو چکی ہے اور اب امید کی جانی چاہیے کہ دونوں ملک مسائل کے حل کے لئے مثبت کوششیں کریں گے۔’’ ایک اور سابق سفیر اسلم رضوی نے کہا کہ ’’بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری کے نمایاں آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ ‘‘سابق سفیر اور خارجہ سیکرٹری عبد العزیز خان نے یہاں تک بھی بتایا کہ ’’بھارت کی یو پی اے سرکار تعلقات کے حوالے سے محض وقت کاٹتی رہی جب کہ اب دونوں ملکوں کی سرکاریں مضبوط ہیں اس لئے مضبوط رشتوں کی پوری اُمید ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں اطراف سے شکوک وشبہات کا سلسلہ ترک ہو جانا چاہئے۔‘‘ برگیڈر راشد قریشی نے ہندو پاک تعلقات میں خوشگوار تبدیلی کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ’’ اب وقت آگیا ہے کہ دونوں ملک ٹھوس اور مثبت اقدامات کا آغاز کریں تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان رشتوں کے حوالے سے جو غیر یقینیت بنی ہوئی ہے ،اس کا خاتمہ ہو جائے۔ ‘‘ چنانچہ اسی طرح کے بیانات بھارت کے نو منتخب وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے بھی آتے رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میںیہاں تک بھی کہہ دیا کہ ’’میری سرکار کو پاکستان کے ساتھ دشمنی نہیں دوستی ہو گی‘‘ ۔انہوں نے واضح طور کہا کہ’’ پاکستان کے ساتھ بھارت کے رشتے مزید مستحکم ہوں گے،اپنے پڑوسیوں کے بارے میں کبھی غلط سوچا نہیں ہے بلکہ چین کے ساتھ بھی مضبوط رشتوں کو اہمیت دی جائے گی۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ملک کے اندر اس قدر استحکام لائیں گے کہ پاکستان خود بھارت کے ساتھ دوستی کی آرزو کرے گا۔‘‘ یہ پوچھے جانے پر کہ’’اگر آپ اب وزیر اعظم بن گئے،تو کیا اب آپ پاکستان کو ڈرائیں گے؟ نریندرمودی نے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ ایسا کیوں کروں گا؟ پاکستان ہمارا پڑوسی ملک ہے، ہم اس کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کریں گے بلکہ پڑوسیوں کے ساتھ آنکھ دکھا کر یا جھکا کر نہیں بلکہ آنکھیں ملا کر بات چیت کر کے راہ ِامن ہموار کریں گے۔‘‘ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ سینئر سیاسی و سماجی لیڈروں اور سفارت کاروں کی طرف سے اسی طرح کے بیانات آرہے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آگے کیا ہو گا ؟اس کا اندازہ کرنا ابھی اگرچہ مشکل ہے ، تاہم آج تک جو ہوتا آرہا ہے اس سے کئی لوگوں کے خدشے ابھی بھی یہی ہیں کہ ’’آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ بہر حال جو بھی ہونا ہے وہ ہو کر رہے گا لیکن پاک بھارت کے درمیان جو تلخیاں کبھی کبھار جنگ کی دہلیز تک انہیں پہنچاتی ہیں، اسے دیکھ کر یہ خدشہ ہے کہ حکومت چاہے کسی کی بھہ ہو یہاں ایک دن کی خوشی کئی برسوں کا ماتم جیسا منظر سامنے نہ آتارہا ہے۔ چونکہ بھارت کے نئے وزیر اعظم کی گجرات تاریخ کا سیاہ باب ابھی مکمل طورسے بندنہیں ہوا ہے، وہ باب اس قدر خونچکاں ہے کہ انسانیت کانپ اٹھتی ہے۔ گجرات فسادات کے دوران نریندر مودی کی سرکار نے مسلمانوں کے ساتھ کیسا ناقابل بیان سلوک روا رکھا، اس کے متعلق پوری دنیا اچھی طرح سے واقف ہے۔ اور تو اور مسلمانوں کے علاوہ باقی اقلیتوں کے تئیں ان کے خیالات کیسے ہیں وہ بھی واضح ہیں۔ تاہم اس بار مرکزی حکومت کی باگ ڈور بی جے پی کے ہاتھوں میں اس طرح آگئی ہے کہ انہیں کسی سہارے کی کوئی ضرورت بھی نہیں رہی، اس نے ۴۸ء کے بعد اپنے بل بوتے پر حکومت قائم کر کے ایک ایسا چمتکار دکھایا کہ پوری دنیا دیکھتے ہی رہ گئی۔

پاک بھارت تعلقات میں مثبت تبدیلی کہ امید کرنا کوئی گناہ نہیں ہے لیکن دونوں ممالک کے مابین جو بھی معاملات ہوں گے ان میں جو حل طلب اہم مسئلہ ہے وہ جموں وکشمیر کا متنازعہ و دیرینہ مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کی وجہ سے اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ دلی اوراسلام آبادکے دویگر مسائل لٹکے چلے آرہے ہیں، جن کا حل نکلتے نکلتے بھی نہیں نکل پا رہا ہے۔ نئی  مرکزی حکومت نے اگر کانگریس سرکار کی وہی پالیسی اختیار کی جس میں وہ بار بار بات چیت کے میز پر بیٹھ بھی گئے لیکن صرف اپنا ووٹ بٹورنے کے لئے، ان کے دور میں کئی بار مذاکراتی میز سجائے گئے ، ایک دوسرے کا آمنا سامنا ہوا لیکن حل دور دور تک بھی نظر نہ آیا۔ اگر بالفرض بھارت کی یہ نئی سرکار برابر اسی نہج پر برقرار رہی تو شاید اس سرکار کا بھی آخر کار وہی حشر ہو نا ہے جو اس سے قبل کی حکومتوں کاہوا۔
یہ بات واضح ہے کہ پاک بھارت کا جڑنا ایشیا ء کے اس خطے کے لئے بے حد ضروری ہے۔ برصغیر میں ان دونوں کے درمیان چپقلش اور تلخیاں اگر ختم ہو جائیں تو یہ ایک ایشیائی طاقت کا ایک اور نمونہ ہو گا۔ یورپ، جس کا نام ایک ’’طاقتور بیلٹ ‘‘کے طور پر لیا جاتا ہے، اس کے آگے ایشیائی ممالک سرجکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں جن میں سے پاکستان اور بھارت بھی شامل ہیں۔ بدیہی حقیقت یہی ہے کہ پاک بھارت کے درمیان بغض وعداوت کی جو نفسیاتی خلیج پائی جاتی ہے، ان کے مابین جو یہ دشمنی کا بیج روز بروز اُگنے کے ساتھ ساتھ پھیلایا بھی جا رہا ہے، یہ برصغیر کے مسائل حل ہونے میں مانع ہے۔ یورپین طاقت جس کا سکہ اور جس کی چودھراہٹ برصغیر میں اس لئے چل رہی ہے کیونکہ کہ برصغیر بٹاہوا ہے، ان کے درمیان جو ممالک آباد ہیں وہ ایک دوسرے سے اس قدر نالاں وپریشان ہیں کہ دور سے ان کا یک جٹ ہونا محال دکھائی دے رہا ہے۔ یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سازش ہے جو برصغیر سے باہر رہنے والے نام نہاد ترقی پسند ممالک کی کارستانیاں ہیں۔ پاک بھارت تعلقات میں تلخیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ اگر کسی حد تک حل ہو سکتا ہے تو وہ صرف اور صرف کشمیر حل سے ہو سکتا ہے۔ مسئلہ جو 60سال سے زائد عرصہ سے لٹکا چلا آرہا ہے۔ اس دوران ہزاروں نہیںبلکہ لاکھوں کی جانیں تلف ہو گئیں، ہزاروں بہنیں بیوہ ہو گئیںاور ایسے ایسے واقعات رونما ہوئے جن پر سوچ کر بھی رونگٹھے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہی کشمیر حل باقی ہے۔ بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی ہے کہ ’’جموں وکشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے‘‘ اور پاکستان کا یہ کہنا کہ ’’جموں وکشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘‘۔ اس آپسی بیان بازیوں کے درمیان جموںوکشمیر کی عوام آج تک کٹتی جاری ہے، اسے دن و رات کے جس لمحے بھی چاہیں پابند زنداں کیا جاسکتا ہے، گھروں میں توڑ پھوڑکے علاوہ لوٹ مار کی جا سکتی ہے، پرامن احتجاج کے دوران گولیوں سے جواب دے کر انسانوںکی لاشوں کاڈھیر کیا جاسکتا ہے۔ غرض کہ یہاں کے لوگ پاک بھارت تعلقات اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے کٹے مرے جا رہے ہیں ۔ بھارت کی نئی سرکار اگر چاہے تو مسئلہ کشمیر کے بارے میں روایتی ہٹ دھرمی کو خیر باد کر کے پرامن طریقے سے پاکستان اور ریاست جموںوکشمیر کے عوام کے منتخب اور حریت پسند سیاسی لیڈران کوایک جگہ جمع کر کے اس دیرینہ مسلے کا حل نکال سکتی ہے۔ بہرصورت یہ مسئلہ حل ہو گیا تو کسی حد تک پاک بھارت تعلقات میں اصل معنی میں تبدیلی تو آ نی ہی ہے مگر نریندر مودی کا قد تاریخ کے پنوں میں اتنا اونچا وہوگا کہ شاید ہم اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے    ؎
امیدوں کے سہارے جئے جا رہے ہیں
ورنہ حقیقت کا منظر کچھ اور ہی ہے

Tuesday, 11 March 2014

خلافت علی منہاج النبوہ ، شبھات اور حقائق

سید علی گیلانی

.................


سورہ فتح کی آخری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ نے اپنے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، عالمِ انسانیت کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے اور جو دین حق ، جو ہدایت کا پیغام انکو عطا کیا گیا ہے وہ دنیا پر غالب ہو جائے۔ یہ ہدایت اور دین حق ماتحت رہنے اور باطل کے سائے تلے زندہ رہنے کے لئے نہیں بھیجا گیا ہے بلکہ اس لئے بھیجا گیا ہے کہ وہ تمام ادیان پر غالب ہو جائے اور اس کے لئے اللہ کی گواہی کافی ہے اسکے کسی اور کی گواہی طلب نہیں کرنا ، اسکے لئے کسی سامراج اور کسی استعمار اور کسی فرماں روائے اقتدار اور لشکر جرار سے اجازت طلب اور تصدیق حاصل نہیں کرنا ہے۔ اللہ کی گواہی کافی ہے، دین کے غلبے کو قرآن پاک میں مختلف مقامات پر مختلف ناموں سے موسوم کیا گیا ہے، اسی کو اقامت دین سے تابیر کیا گیا ہے اور کئی مقامات پر اسے خلافت سے موسوم کیا گیا ہے۔
خلافت علی منہاج النبوہ کا قیام اسی طرح فرض ہے جس طرح نماز فرض ہے، جس طرح روزہ، حج، اور زکوٰۃ فرض ہے، اور جس طرحشہادت دینا فرض ہے اللہ کے واحد ہونے کی، اور رسول ؐ کے رسول اور خاتم النبین ہونے کی، ٹھیک اسی طرح خلافت علی منہاج النبوہ قائم کرنے کی جدوجہد کرنا فرض بنتا ہے ان لوگوں پر ، اس امت پر جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ آج بیسویں صدی کے آخری عشرے (موجود اکیسویں صدی) میں جب یہ بات کہی جاتی ہے کہ خلافت کا نظام قائم کرنا ہے تو مسلم ملت میں بھی انتشار پیدا ہو جاتا ہے، وہ بھی سوال کرنے لگتے ہیں، کیا یہ دور ہے خلافت کے قیام کا؟ اور بعض لوگ تو کھل کر کہتے ہیں کہ یہ بے وقت کی راگنی ہے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ انہونی بات ہے، اور بعض لوگ کہتے ہیں یہ حالات کا صحیح تجزیہ نہیں ہے۔ جہاں مسلمان اقلیت میں ہوں (یعنی ہندوستان) جہاں مسلمان منتشر ہوں، (یعنی پوری دنیا) جہاں مسلمان تسبیح کے بکھرے دانوں کی طرح ہوں، جہاں مسلمانوں کی کوئی مرکزیت نہ ہو، اور پھر ایسے ماحول میں خلافت کا نام لینا خلافت کے قیام کی جدوجہد کرنا یہ مسلمانوں کے لئے اور مسلمانوں کے حق میں کوئی بہتر اور قابل عمل پروگرام نہیں ہو سکتا۔ یہ باتیں مسلمان کہتے ہیں۔ اور جہاں تک غیر مسلم بھائیوں کا تعلق ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ مسلمان اپنا قومی غلبہ چاہتا ہے وہ اسی حیثیت سے اسے تابیر کرتے ہیں کہ مسلمان ہمارے اوپر غالب ہونا چارہے ہیں۔ دونوں طرف غلط فہمیاں ہیں اور جو لوگ خلافت علی منہاج النبوہ کا فریضہ انجام دینے کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ان کیلئے پہلا مرحلہ یہی ہے کہ وہ غلط فہمیاں دور کریں۔ مسلمانوں سے صرف اتنا کہنا ہے کہ آپ یہ بتائیں کہ کیا یہ فرض ہے؟ اگر یہ فرض ہے، قرآن میں بھی اسے واضح الفاظ میں کہہ دیا گیا ہے کہ یہ فرض ہے۔ خلافت کا نظام قائم کیا جائے، دین حق کو غالب کیا جائے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہی ایک پسندیدہ دین ہے۔ :’’ومن یبتغ غیر الاسلام دین فلن یقبل منہ وھو فی الآخرت من الخاسرین‘‘ (جو لوگ اسلام کے بغیر زندگی کا کوئی اور طریقہ اختیار کریں وہ اللہ کے نزدیک قبول نہیں ہو گا اور وہ لوگ آخرت میں خسارے اور گھاٹے سے دوچار ہوں گے)۔ 
تو یہ مسلمان سے کہنا ہے جوخلافت کے، نظام کی جدوجہد کو بے وقت کی راگنی کہتے ہیں ، ان سے یہ کہنا ہے ، کہ قرآن اور سنت کی روشنی میں بتائو یہ فرض نہیں ہے؟ اور وہ نہیں بتا سکے گا کہ نہیں۔ وہ قرآن کو تحریف نہیں کر سکیں گے، قرآن تحریف سے محفوظ رہا ہے اور انشاء اللہ قیامت تک محفوظ رہے گا۔ پھر ان سے یہ کہیں کہ جب یہ فرض ہے تو پھراس کے قیام کے لئے اٹھنا پڑے گا۔ یہ کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ وقت کا اقتدار انکا ساتھ دیگا اور یہ شرط تو کوئی بھی فریضہ انجام دینے کیلئے نہیں لگائی جا سکتی۔ فرض انجام دینے کے لئے اٹھنا ہے، اٹھنے کے بعد وہ فرض انجام دیا جا سکے یا نہیں یہ اٹھنے والی کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ایک شخص کو حج کرنے کی استچاعت ہے اس پر حج فرض ہے وہ تیاری کرتا ہے حج کو جانے کے لئے، اس کو کوئی گارنٹی نہیں دی سکتا کہ وہ حج پر پہنچ جائے گا، لیکن ان کو جانا ہے۔ یہ فرائض جو ہونے ہیں تو انکو ادا کرنے کیلئے شرطیں عائد نہیں کی جا تیں، اور مسلمان پر یہ فرض ہے کہ وہ خلافت کا نظام قائم کریں، دین کو قائم کریں، جب تک دین قائم نہیں ہو گا مسلمان کی زندگی اسلام کے سانچے میں نہیں ڈھلے گی۔ آپ کے یہاں ہندوستان میں بڑ کا پیڑ ہوتا ہے اور ہمارے ہاں (کشمیر ) میں بڑ کی قدوقامت کا چنار ہوتا ہے، آپ بڑ کے پیڑ کے نیچے اس کے سائے میں کوئی آم کا پیڑ لگائیں وہ پنپے گا نہیں، چنار کے پیڑ کے سائے تلے اگر ہم سیب کا پیڑ لگائیں وہ پنپے کا نہیں۔ ٹھیک اسی طرح باطل کے سائے میں اسلام کا پیڑ نہیں پنپے گا، باطل کا سایہ جہاں ہوتا ہے، باطل اپنا سایہ پھیلاتا ہے۔ باطل کے سائے میںسورج کی روشنی بند ہو جاتی ہے، باطل کے سائے میں اسلام کی روح مردہ ہو جاتی ہے، باطل کے سائے میں مسجد کی چار دیواریاں بھی محفوظ بھی نہیں رہتی(جیسے بابری مسجد) اس لئے باطل کے سائے میں اسلام کے مطابق زندگی گزارنا ایسا ہی ہے جیسے کہ بڑ کے سائے میں آپ کوئی سبزی کا چمن لگائیں۔ اس لئے ضروری ہے جس دین کو ہم اپنا دین مانتے ہیں اس کے قیام کی ہم کوشش کریں اور خلافت کا نظام یہی کوشش ہے۔
جہاں تک غیر مسلموں کا سوال ہے ان سے یہ کہنا ہے کہ ہم قومی غلبہ نہیں چاہتے ۔ہم ایک اصول کی بالادستی چاہتے ہیں، اور اصول کسی قوم کی میراث نہیں ہوتے۔ سورج پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے، سورج چمکتا ہے کوئی خدا کو نہ بھی مانتا ہو لیکن سورج کی روشنی اسے بھی مل جاتی ہے۔ پانی پر کسی قوم کی اجارہ داری نہیں ہے، ہر ایک کے لئے ہے، سور جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے وہ بھی دریا پر جاکر پانی پی سکتا ہے۔ ہوا پر کوئی اجارہ داری قائم نہیں کر سکتا، جس طرح یہ نعمتیں ہیں ہیں اللہ کی ٹھیک اسی طرح اسلام بھی اللہ کی نعمت ہے، اور اس نعمت سے ہر انسان کو استفادہ کرنے کا موقع ہے۔ جب خلاف تک نظام قائم ہو گا تو یہ ضروری نہیں ہیں کہ آج کا کوئی مسلمان خلیفہ بنے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آج جو لوگ اسلام کے دائرے سے باہر ہیں وہ اسلام میں آجائیں اور وہی خلیفہ بنیں۔ حضرت عمر فاروقؓ رسالت کے ابتدائی دور میں مسلمان نہیں تھے وہ رسول اللہ ﷺ کو شہید کرنے کے ارادرے سے نکلے اللہ نے ان کو اسلام کی نعمت سے نوازا اور وہ خلیفہ دوم بنے۔ تو یہ خلافت کا نظام ہمارے غیر مسلم بھائیوں کو گھبرانا نہیں چاہئے، انہیں خوف و ہراس میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔ 
پھر تیسری بات ، کیا خلافت کی ضرورت ہے اس دور میں؟ : ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ دنیا کا انسان کیا چاہتا ہے؟ ہم دیکھیں گے تو ہمیں معلوم ہو گا کہ دنیا کا ہر انسان امن چاہتا ہے، خوشحالی اور فراغت چاہتا ہے، عدل و انصاف چاہتا ہے۔ یہ انصاف کی فطرت ہے ہے ، تو دیکھنا یہ ہے کہ یہ چیزیں ملتی ہیں آج کے زمانے میں؟ آج کے زمانے میں نظریات پیدا کئے گئے، یہی دعوہ لیکر نظریات سامنے لائے گئے کہ انسان کی امیدیں اور تمنائیں پوری کی جائیں گی۔ اور ابھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ دنیا میں کو مختلف نظریات لائے گئے کیا انہوں نے دنیا میں امن قائم کیا؟ آپ دیکھ لیجئے دو عظیم جنگیں دنیا میں لڑی گئیں، جنگ عظیم اول میں اور جنگ عظیم ثانی میں کتنی جانیں ضائع ہوئی ہیں، کتنا مالی نقصان ہوا اس کا کوئی اندازہ لگایا نہیں جا سکتا۔ لیگ آف نیشن وجود میں لائی گئی، مقصد تھا کہ یہ ادارہ دنیا میں امن قائم کرے گا اور اس کے سائے تلے دو عالمی جنگیں لڑی گئیں۔ اس کے بعد اقوام متحدہ (اصلاً جو اقوام متفرقہ ہے) کا ادارہ وجود میں لایا گیا، اس میں اس وقت ایک سو چوراسی (۱۸۴) ملک ہیں، آپ نے سنا ہو گا امریکہ کا صدر بھی اسے قبول کرتا ہے کہ اقوام متحدہ کے وجود میں آنے کے بعد بیس ملین (بلکہ اس سے زیادہ) لوگ اب تک ہلاک ہو چکے ہیں، جو اقوام متحدہ امن قائم کرنے کی امیدوں کے ساتھ وجود میں لائی گئی تھی اس کے سائے تلے اس کی ناک کے نیچے بیس ملین لوگ اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔ آج اقوام متحدہ پر اجارہ داری ہے، چند اجارادار ہین۔ پانچ ملک جن کے پاس ویٹو کا اختیار ہے۔ روس، چین، برطانیہ، فرانس اور امریکہ اسے ایک لونڈی کی حیثیت سے استعمال کر رہا ہے، اقوام متحدہ نے قراردادیں پاس کی فلسطین کے بارے میں، لیکن اسرائیل نہیں مانتا ، اور اسے کوئی نہیں چھوڑتا، اس کے ساتھ کوئی اقتصادی بائیکاٹ نہیں کرتا، اس لئے کہ وہ امریکہ کا پروردہ ہے، وہ امریکہ کا پالتو ہے۔ اور اسی طرح بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو روند ڈالا، جو جموں و کشمیر کے ایک کروڑ  تیس لاکھ لوگوں کے بارے میں اقوام متحدہ نے پاس کی تھیں کہ انہیں (Right to Self Determination ) دیا جانا چاہئے، تاکہ وہ اپنے مستقبل کا تعین کر سکیں، لیکن بھارت نے اقتدار کے نشے میں طاقت کے بلبوتے پر ان قراردادوں کو روند ڈالا اور آج بھی ۶ لاکھ فوجیں کشمیر کی زمین پر انسانی کھوپڑیوں کے ساتھ فٹبال کی طرح کھیل رہی ہیں۔ اقوام متحدہ انصاف نہیں دے سکا، آج اقوام متحدہ ایک معچل ادارہ بن چکی ہے۔ 
دوسری امن کی کوشش یہ کی جارہی ہے کہ جمہوریت کو فروغ دیا جائے، اسے پروان چڑھایا جائے، تاکہ زندگی کے مسائل حل ہوں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جمہوریت کے راستے سے جب الجزائر میں اسلام آگے آتا ہے تو جمہوریت کا راستہ روک دیا جاتا ہے کہ نہیں یہ جمہوریت ہمیں منظور نہیں، جس کے راستے سے اسلام سامنے آجائے۔ ترکی میں جن جمہوریت کے ذریعے اسلام آتا ہے تو اس کا راستہ روک دیا جاتا ہے۔ یہ جمہوریت بھی ایک فریب ہے۔ بقول علامہ اقبالؒ    ؎
دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے جوب تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری 
یہ تو ظلم کا دیو ہے، جس نے جمہوریت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے، اسی جمہوریت کے سائے تلے ہندوستان میں بقول مولانا اسعد مدنی  ؒ تیس ہزار مسلم کش فسادات ہوئے، اسی جمہوریت کے سائے تلے بابری مسجد کو شہید کیا گیا، جو لوگ شہید کرنے والے تھے انکی ساری کارکردگی اس وقت کے وزیر اعظم دیکھ رہا تھا، اس نے ایک گولی بھی نہیں چلوائی، جب مسجد کو شہید کردیا گیا اور مسلمان مجروح جذبات کے ساتھ سڑکوں پر نکل آیا تو بارش کی طرح گولیاں برسائی گئیں اور دو ہزار مسلمان شہید ہوئے، یہ جمہوریت ہے۔ ۳۱ اکتوبر ۱۹۸۴ ؁ء کو اندرا گاندھی کو اپنے محافظوں نے قتل کیا وہ سکھ تھے، یہ کونسی جمہوریت ہے کہ ایک طرف سے پورے چار دن تک دہلی میں سکھ قوم کا صفایا کیا گیا، اور پانچ ہزار سکھ مارے گئے۔ اسی جمہوریت کے سہارے ہم سے کہا جارہا ہے کہ جمہوریت امن قائم کرے گی۔ جس جمہوریت نے انسان کے جان و مال کا، عزت و آبرو کا تحفظ نہ کیا ہو جس میں اعتقاد و ایمان کا تحفظ نہ ہو، جس میں لوگوں کی عبادت گاہ کا تحفظ نہ ہو وہ جمہوریت بے کار ہے، اس کے سہارے جیا نہیں جاسکتا، اس کا علاج سوچنا ہے۔ اور علاج اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ دین قائم ہو، خلافت علی منہاج النبوہ قائم ہواور یہ تو ایسا فریضہ ہے کہ اگر اس کے لئے ہماری جانیں قربان ہو جائیں تو اس سے بڑھ کر کوئی قیمت نہیں ہو گی کہ وہ دنیا کو امن دینے کیلئے ، ایک ایسا نظام لانے کے لئے قربانیاں دی گئی جو نظام عدل و انصاف کا واحد ضامن ہے۔ 
  نوٹ:یہ محترم مولانا سید علی گیلانی صاحب کی ایک تقریر  ہے۔ آیڈیو اور ویڈیو ٹیپ کی مدد سے اسے تحریری شکل میں قارئین کے پیش خدمت کیا جا رہا ہے ۔
(ابراہیم جمال بٹ)


Monday, 10 March 2014

تکریمِ اساتذہ ............ یہ شئے نایاب ہے انمول عالم تاب ہے

٭ابراہیم جمال بٹ

.....................


آج کے اس دور میں جہاںمادّی منفعت اور خود غرضی کی بنا پر ہر رشتہ اور تعلق کی اہمیت مفقود ہوتی جارہی ہے، وہیں اُستاد اور شاگرد کے مبارک روحانی رشتہ کی اہمیت کم اور اس کاتقدس بھی پامال ہوتا جارہا ہے۔اس سلسلے میں اساتذہ سے اپنا مقام ومرتبہ سمجھنے میں کوتاہی ہورہی ہے ا ورطلبہ بھی ان کی قدر ومنزلت سے ناواقف ہوتے جا رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے آئے دن طلبہ اپنے اساتذہ کے تئیں بدتمیزی اور گستاخی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ اگرچہ اس بارے میں آج پوری دنیا کے ذی حس لوگ فکر مندتو ہیںمگر یہ روگ ہے کہ اس میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا جا رہاہے۔نتیجہ یہ کہ پورا تعلیمی ڈھانچہ اس قدر متاثر ہوا ہے کہ تعلیمی ادارے اور ان سے فارغ ہونے والے طلبہ بہت ساری خرابیوں کے موجب بن رہے ہیں۔ اگرچہ تعلیمی اداروں سے طلبہ عملاً مشین تو بن جاتے ہیں لیکن جس مقصد کے لیے تعلیم دی جاتی تھی وہ مقصد ان طلبہ میں نہیں پایا جاتا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے :’’ تعلیم ایک ہنر ہے جس سے ماہرانِ خصوصی نہیں بلکہ انسان بنائے جاتے ہیں‘‘۔چنانچہ آج اسی صورت حال کا سامنا ہے، ماہرینِ خصوصی یعنی ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر اور سیاستدان تو بنائے جا رہے ہیں لیکن ان تعلیمی اداروںمیں انسان کی اصل تعمیر نہیں ہو پارہی ہے۔ روح کے سکون کا ایک ذریعہ تعلیم بھی ہے ، اور اگر صحیح معنوں میں یہ تعلیم ایک طالب علم کو نہ ملے تو انسان جانوروں سے بدتر صورت اختیار کر سکتا ہے، جس کا عملی نمونہ آج ہم خود بنے بیٹھے ہیں۔ ایک جگہ ایڈیسن لکھتا ہے : ’’سنگ مر مر کے ٹکڑے کے لیے جس طرح سنگ تراشی ہے ویسے ہی انسانی روح کے لیے تعلیم ہے‘‘۔ایک اور جگہ پر فروبل لکھتا ہے کہ: ’’تعلیم کا مقصد کھری، پُر خلوص، بے عیب اور پاک وصاف زندگی بسر کرنے کے قابل بنانا ہے‘‘۔علامہ اقبالؒ ایک جگہ فرماتے ہیں    ؎شیخ مکتب ہے اِک عمارت گراس کی صنعت ہے روحِ انسانیغرض تعلیم اگر صحیح معنوں میں ایک طالب علم کو دی جائے تو یہ واضح ہے کہ طلبہ کے ذریعے سے وہ عملی انقلاب آئے گا جس کا آج ذی حس انسان متمنی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آج کیا کچھ پڑھایا جا رہا ہے اور اس پڑھائی کے نتیجے میں کیا کچھ حاصل ہو رہا ہے…؟پڑھائی کا مقصد کیا بن چکا ہے…؟ اور مقصد کے حصول کے لیے کیا کیا عملی طور کیا جا رہا ہے…؟ ان جیسے سوالات کا اگر آج کے تعلیمی نظام کی روشنی میں جواب طلب کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ تعلیم بس ماہرانِ خصوصی بنانے کے لیے دی جارہی ہے اور وہ بھی ایسے ماہران بنائے جا رہے ہیں جن سے انسان نام کی چیز اس دنیا میں رہنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں استاد اگرچہ موجود ہیں لیکن استاد کے معنی کیا ہیں، استاد کا مقام کیا ہے، اور اس کے حقوق طلبہ اور طلبہ کے حقوق اساتذہ پر کیا ہیں ،اس سے آج کا طالب علم اور استاد دونوں کا دور دور کا کوئی واسطہ نہیں رہا۔ اس کی لا پروائی یا آزاد خیالی نے اس قدر تعلیمی نظام اور اس سے جڑے لوگوں کا کام ختم کر دیا کہ آٓج حقیقی معنوں میں نہ ہی کوئی اُستاد ہے اور نہ ہی کوئی شاگرد، یہ رشتہ کب کا اس دنیا سے نابود ہوچکا ہے۔ چنانچہ یہ رشتہ مثلِ باپ بیٹے کا جیسارشتہ تھالیکن آج اس رشتہ کو ختم کر کے اس عظیم اور پاک رشتہ کی جگہ آزاد خیالی کے نام پر ایک دوسرا رشتہ قائم کیا جا چکا ہے جس کے موجدبھی ہم خود ہی ہیں۔ آج زندگی کے دوسرے تمام شعبوں کی طرح تعلیم کے بارے میں بھی مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ کوئی آزاد خیالی کے علمبرداروں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر صرف اور صرف اپنے ذہن و گمان کو ہی جگہ دیتے ہو ئے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے اور کوئی آج کے اس نام نہاد دور ِجدید کا سہارا لے کر اپنے آپ کو ایک عملی مشین بنانے کی دوڑ میںلگ کر اسی مشین کی طرح اپنی زندگی کی گاڑی کو چلانا چاہتا ہے۔ تیسری جانب کوئی اس قدر تعلیم میں مست ومگن ہو چکا ہے کہ اسے صرف اور صرف اپنی فکر اور اپنے سوچ کی بالادستی کا خیال رہتا ہے۔ دین ومذہب کا انسانی زندگی میں کیا مقام ہے اس جانب یہ سارے طبقہ ہائے طلبہ کم ہی دیکھتے ہیں۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ انسان اس قدر مذاہب اور دین کو بالائے طاق رکھ کر اس تعلیمی نظام کی رنگینیوں میں مست ہوچکے ہیں کہ وہ ڈاکٹر اور انجینئر تو بن رہے ہیں، وہ سائنس دان اور سیاست دان بھی بن رہے ہیں، پروفیسر اور فلاسفر بن رہے ہیں، لیکن ایک انسان جو تعلیم کا اصل مقصد تصور کیا جاتا تھا نہیں بن پا رہے ہیں۔ آج تعلیمی اداروں میں دھنگے فساد ہو رہے ہیں، یہاں تک کہ قتل وغارت گری بھی ہو رہی ہے ،یہ نتیجہ ہے کہ تعلیم کے اصل مقصد کو پس پشت ڈال کر اپنی ’’آزاد خیالی‘‘ کابھرم قائم کر نے کا۔ شاگرد اگرچہ آج بھی طالب علم اور شاگرد (Student)ہی کہلاتا ہے لیکن ان دونوں کے درمیان جو رشتہ قائم ہونا چاہیے تھا وہ مقدس رشتہ آج کی دنیا میں لگ بھگ کہیں نہیںپایا جاتا۔ اُستاد جو روحانی باپ کے مرتبہ پر فائز تھا، اسے چند روپیوں کے عوض ایک ملازم تصور کر کے اس سے ملازمت کروائی جاتی ہے۔ دوسری جانب اساتذہ بھی اپنے مقصد اور مرتبہ سے اس قدر دور نکل چکے ہیں کہ وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ ’’کس طرح کہاں سے پیسہ آتا ہے ، وہ اپنے آپ کو ملازم ،اور شاگرد کو پیسے دینے والا مالک بنا دینے میں ہی اپنی  بھلا سمجھتے ہیں۔جس کے نتیجے میں آزاد خیال طالب علم نہ تو گھر کا ہو پاتے ہیں اور نہ ہی اساتذہ کے۔گھروں میں اپنے ماں باپ کا سہارا بننے کے بجائے یہ طالب علم ان کو ایک مقام پر بوجھ تصور کرتے ہیں اور انہیں اپنے ہی گھروں سے دھکے مار مار کر یا تو نکال باہر کر دیتے ہیں یا انہیں اس طرح جینے پر مجبور کر دیتے ہیں ،وہ نہ تو اپنے گھر کے رہتے ہیں اور نہ ہی گھر کے لوگوں کے۔ اسی طرح ایک استاد بھی اس معاشرے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا رہا ہے ، وہ بھی نہ تو اس تباہی سے خود بچ پاتا ہے اور نہ ہی اپنے زیر تربیت طلبہ کو بچا پاتا ہے۔ یہی سوچ ہے جو آج کی اس دنیا میںپنپ رہی ہے اور اسی سوچ کے نتیجے میں آج ہم اپنے گھر اور معاشرے کی تباہی کا نظارہ کر رہے ہیں۔ بایں ہمہ اس میںایک گہری تبدیلی آسکتی ہے لیکن پہلے اپنی سوچ کو تبدیل کرنا ہو گا۔ طریقہ تعلیم اور نظام تعلیم کو بدلنا ہو گا، ہر ایک شخص کو وہ مقام دینا ہو گا جو اس کا ازل سے ابد تک متعین ہے، اور ہر اس محدودو لایعنی خیال سے اپنے آپ کو آزاد ہو کر اس لامحدودہستی کو بسر وچشم تسلیم کرنا ہو گا جس کی لامحدودیت میںہی انسان اور انسانیت کی بقا اور کامیابی کا راز مضمر ہے۔ اور یہ سب کچھ آج بھی مذہبی اور دینی تعلیمات میں موجودہے۔ اصلاح احوال کی مخلصانہ نیت ہو تو اس جانب توجہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ دین و دنیا کی تفریق ختم کر کے ایک ایسا تعلیمی نظام کا قیام ضروری ہے جس سے انسان کی تعمیر سیرت ہو سکے، ہنر مندی کے ساتھ ساتھ دیانت داری اور امانت پسندی کا ایک نمونہ قائم کیا جاسکے، جس سے ایک دھوکہ باز سیاست دان کے بجائے ایک باکردار اور باادب سیاست دان پیدا ہو جائے، ایک ایسا ڈاکٹر اور انجینئر پیدا ہوسکے جو لوگوں کا علاج اور ان کی تعمیر وترقی نہ صرف اپنا ذریعہ معاش بنائے بلکہ اس کے لئے اس کا ہر کام عبادت کا مرتبہ پا جائے۔ استاد اپنے شاگردوں کا روحانی باپ جیسا بن کر ان کی روحانی تربیت کا ذریعہ بن جائے اور اس طرح اپنی تعلیم سے شاگرد کو آراستہ کر دے کہ وہ شاگرد ماہر بھی بن جائے اور انسان بھی باقی رہے۔چنانچہ اس ضرورت کے پیش نظر سب سے پہلا کام معلّم کی ہے، معلم صحیح تعلیمات سے آراستہ ہو گا تو طالب علم بھی صحیح تعلیم کے نور سے منور ہو پائیں گے اور اگر استاد ہی اصل اور حقیقی روحانی تعلیم سے نابلد ہو تو اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہماری تربیت کے بجائے ہماری تباہی کے ہتھیار ہی بن جائیں گے۔ حق یہ ہے کہ اسلام ایک ایسادین ہے جس کا اپنا ایک نظام تعلیم ہے۔ اس سسٹم اور طریقہ کار کے نتیجے میں کس قدر لوگوںکا جنم ہو چکا ہے اس سے تاریخ کے اوراق سنہرے الفاظ سے بھرے پڑے ہیں۔ اسلام کے اس تعلیمی نظام میں معلم کا اپنا ایک درجہ ہے۔ وہ طلبہ کا روحانی باپ ہے اور ملت کا معمار بھی۔ آئندہ نسلوں کی سیرت سازی اسی کے ذمہ ہے اور مستقبل کے شہریوں کا بننا اور بگڑنا بہت حد تک اسی کی کوششوں اور فکر پر منحصر ہے۔ چنانچہ اس اہم منصب کے لحاظ سے ایک معلّم کے اعلیٰ اوصاف ہونے چاہییں۔ معلم کے اوصاف اعلیٰ ہوں گے تو طلبہ کے اوصاف پر ان کی چھاپ پڑے گی اور اگر معلم اوصاف ِحمیدہ سے خالی ہو تو طالب علموں کی کھیپ سے اعلیٰ اوصاف کا حامل انسان نکل آنا مشکل ہے۔ معلم اعلیٰ سیرت وکردار کا حامل ہونا چاہیے، اس میں علمی لیاقت اور تدریسی صلاحیت کے ساتھ ساتھ بچوں کی نفسیات اور طریقِ تعلیم سے واقفیت بھی ہونی چاہیے۔ ایک معلم میں صبر وتحمل، معاملہ فہمی ، قوتِ فیصلہ، طلبہ سے فکری لگائو، خوش کلامی اور مؤثر اندازِ بیان ہونا چاہیے۔ اس کے کام میں اخلاص اور لگن، ہمدردی اور دل سوزی اور اصلاح کے جذبہ کے ساتھ ساتھ نظم وضبط قائم کرنے کی صلاحیت بھی ہونی چاہیے۔ یہ صفات اور لوازمات لازم وملزوم ہیں اور یہ وہ ضروری اوصاف ہیں جنہیں ہر معلّم کو اپنے اندر پروان چڑھانے کی ضرورت ہے کیوں کہ ان کے بغیر اصل اور حقیقی تعلیم وتربیت جیسا کام نتیجہ خیز ہو ہی نہیں سکتا     ؎سبق پھر پڑھ صداقت کا، شجاعت کا، عدالت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کاان حالات میں سماج میں بیداری مہمات چلانے کی اگرچہ ضرورت ہے لیکن ساتھ ساتھ اس میدان میں عملی طور اُتر کر وہ کچھ کرنے کی کوشش بھی ضروری ہے جس کا ایک عام انسان آج متمنی ہے۔ ایسے میں وادی کشمیر میں طویل مدت سے طلبہ تنظیم ’’اسلامی جمعیت طلبہ جموں وکشمیر‘‘ نے جو24تا30مارچ2014 تک ایک ریاست گیر’’ احترام اساتذہ ‘‘مہم چلائی جا رہی ہے،وہ قابل صد تحسین ہے۔ اس کے ذریعے حتی الوسع ریاست بھر کے تعلیمی اداروںاورکوچنگ سینٹرز میں خطابات، مکالمات، پوسٹرز،بینرزاورفولڈرزکے ذریعہ طلبہ میں یہ احساس زندہ کر نے کی کوششیں کی جا رہی ہیں کہ اساتذہ ہمارے انبیاء علیہم السلام  کے  وثاء ہیں،وہ دنیائے انسانیت کے درخشاں ستارے ہیں۔ ان کے اندر یہ جذبہ بیدار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اساتذہ کی عزت ہماری دینی روایت ہے اور یہ ہماری تہذیب کا ایک اہم حصہ ہے،تاکہ پھر سے اساتذہ اور شاگرد کا باہمی رشتہ مربوط ہوجائے،باہمی محبت واحترام زندہ ہوجائے، ان کی اصل ساکھ کو از سرنو بحال کر کے انہیں اپنا مقدس مقام مل سکے۔اگرچہ اس مہم کا اپنا ایک الگ انداز اور وقت ہے  تاہم اس میں فی الحال مسلسل کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مہم سے اس مسلسل کام کے لیے ایک تحریک ملنا ممکن ہے، یہاں وادی کشمیر میں جو طلبہ تنظیمیں کام کر رہی ہیں انہیں اس کام میں آگے آنا ہو گا، بلکہ اسلامی جمعیت طلبہ جموں وکشمیر کو اس کام کے لیے اُنہیں ’’تعانوا علی البر والتقویٰ‘‘ کے اصول پر اپنے کام میں شامل کر کے یا اس میں مدد ومعاونت کی ضرورت کے پیش نظر انہیں اس کام میں لانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی اس کارخیر میں شمولیت کی دعوت دینی چاہیے جو اگرچہ اس میدان سے وابستہ نہیں ہیں لیکن عملاً اگردیکھا جائے تو وہ بھی اس معاشرہ سے وابستہ ہیں جس میں آج ہمہ گیر تباہی مچی ہوئی ہے۔ ان سے سخنے،قدمے، درہمے اورقلمے آکر اس ریاست گیر مہم میں معاونت کی اپیل کر کے ان کو اس اصلاحی تحریک میں شامل کرنا چاہیے۔ اس تحریک کو عام لوگوں تک پہنچانے کی بھی اشد ضرورت ہے کیونکہ یہ کام صرف طلبہ اور اساتذہ کا نہیں ہے بلکہ یہ کام یہاں بس  رہے لوگوں کو کام ہے، بچوں سے لے کر نوجوانوں تک سارے اس معاشرے کے پُرزے ہیں اور ایک ایک پرزہ اپنے اپنے کام پر لگ جائے تو مشین اور گاڑی کا کسی ویران مقام پر چلتے چلتے بیٹھ  جانا ناممکن ہے    ؎شیخ مکتب ہے اِک عمارت گراس کی صنعت ہے روحِ انسانی
٭٭٭٭٭


Sunday, 23 February 2014

آہ ! یہ زندگی … بندگی


٭ابراہیم جمال بٹ .......................
’’دن و رات ‘‘وقت کے لحاظ سے 24 گھنٹوں کا نام ہے۔ ان24گھنٹوں پر اگر گہرائی و گیرائی سے غور کیا جائے تو دارین کی خوش حالی کے لیے کافی ہے۔ ان24 گھنٹوں میں ایک ایک لمحہ بلکہ ایک ایک سیکنڈ میں انسان کی کامیابی کا راز مضمر ہے۔ چناں چہ اگر انسان صحیح جذبہ سے لیس ہو کر، بلا کسی تعصب کے، اپنی زندگی کے ان 24 لمحات یا گھنٹوں کے لیے ایک مسلسل اور قابلِ عمل پروگرام ترتیب دے کر اس پر عمل کرے تو انسان کے ساتھ ساتھ پوری عالم ِانسانیت کا نام روشن ہو جائے۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ انسان کو اپنے ان24گھنٹوں پر غور و فکر کرکے پروگرام ترتیب دینے کی چنداں بھی فرصت نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے آج حضرت انسان ، انسانیت سے ہی نہیں بلکہ ہر حیثیت سے دور نکل چکا ہے۔  یہ بات واضح ہے کہ جس فرد اور قوم کو اپنی فکر نہیں وہ دوسروں کا خیر خواہ ہو ہی نہیں سکتا۔ جو اپنی کامیابی اور خیروعافیت کا طلب گار نہ ہو، وہ دوسروں کے لیے خیر خواہ ثابت نہیں ہو سکتا۔ اگر کسی کو اپنی قدر نہ ہو تو وہ دوسروں کی قدر حقیقی معنوں میں نہیں کرسکتا۔ اس لحاظ سے انسان کو اگر خود کے ساتھ ساتھ دوسروں کے لیے خیر خواہ ، غم خوار اور قابل بننا ہے تو اسے دن و رات کے ان 24لمحات پر صحیح معنوں میں غوروفکر کر کے اپنی زندگی میں ایک ایسا انقلابی پروگرام تلاش کرنا چاہیے جس پر چلنے سے اس کی زندگی ہی کامیاب زندگی نہ کہلائے بلکہ وہ دوسروں کے لیے بھی نمونہ بن جائے۔ بحیثیت مسلم اگر ہم صحیح ڈھنگ اور ترتیب وار ان لمحات پر غور کریں تو ہمارے لیے سچ مچ یہ 24گھنٹے کافی ہیں۔  ان 24لمحات کی شروعات ہم صبح نیند کی بیداری سے کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔ ایک مسلم کی حیثیت سے کیا کبھی ہم نے نیند سے بیدار ہو کر اس بات پر غور کیا کہ یہ نیند کیا ہے…؟ نیند ہماری آنکھوں پر کب سوار ہوکر دنیا سے بے خبر کر گئی…؟ ہم اس نیند میں کہاں کہاںتھے…؟ کس نے ہمیں اس نیند سے جگا کر دن کی شروعات کے لیے اُٹھنے کا جذبہ اور تحریک پیدا کی…؟ ان جیسے سوالات پر اگر ہم بحیثیت مسلم غور کریں تو ہماری صحیح راہ پانا طے ہے۔ یہ سوالات ہماری خود کی زندگی کے بارے میں ہیں اور ان کا جواب ہمیں خود تلاش کر کے اپنی کامیابی اور کامرانی کی راہ طے کرنی ہے۔ انسان چاہے وہ مرد ہوں یا خواتین، بوڑھے ہوں یا جوان، جب نیند سے بیدار ہو جاتے ہیں تو اکثر ان کا کہنا ہے کہ ہم نے رات کے اس وقفۂ نیند میں بہت کچھ دیکھا جس میں کئی باتیں یاد رہتی ہیں اور کچھ باتیں یاد نہیں رہتی۔ کیا یاد رہنا چاہیے اور کیا نہیں…؟ یہ انسان پر منحصر نہیں ہے۔ انسان سویا کب…؟کچھ خبر نہیں اور اب نہ چاہتے ہوئے بھی کیوں اور کیسے اچانک بیدار ہوا …؟ اس سب پر انسان کی کچھ نہیںچلتی۔ آخر یہ سب کچھ انسان کے ساتھ کیسے ہو رہا ہے…؟ کیوں ہو رہا…؟ اور سب سے بڑی بات یہ کہ کون کرا رہا ہے…؟ کیا کبھی ہم نے ان باتوں پر غور کیا …؟  دن و رات کے ان24گھنٹوں میں یہ پہلی ساعت جب ہم نیند سے بیدار ہوتے ہیں تو بحیثیت مسلمان ہم پر فرض کی ادائیگی کا وقت شروع ہو جا تا ہے یعنی ہاتھ منہ دھو کر (باوضو) سب سے پہلے مسجد میں جا کر صبح کی نماز (فجر) ادا کرنی پڑتی ہے۔ صبح کے اس پہلے کام ـــــــ’’نماز ‘‘کی شروعات پر ہی اگر غور کیا جائے تو انسان اپنے آپ سے باخبر ہو جائے، انسان کو اپنی حیثیت کا حقیقی علم ہو جائے۔ 24گھنٹوں میں سے اس ایک شروعاتی گھنٹے میں انسان غور وفکر سے وہ کچھ پا سکتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہیں ہو گا۔ صبح کی نماز سے شروعات کا مطلب اپنی صحیح حیثیت سے باخبر ہونا ہے۔ پہلے ہی لمحے میں انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ادنیٰ اور کمزور انسان ہے جسے اپنی زندگی پر کوئی کنٹرول نہیں۔وہ نہیں جانتا ہے کہ وہ کب تک اس دنیا میں ہے، اس پر خود کا نہیں بلکہ لا ثانی و لا فانی ذات کا کنٹرول ہے، جس کے آگے جھکنا اس کی فطرت کی رگ رگ میں ہے، اور فطرت کے آگے غیر فطری عمل کرنا اپنی ہی زندگی کے حقیقی خاتمے کا نام ہے۔ اسی لیے ایک مسلم ہونے کے ناطے صبح بیداری کے بعد پہلا کام حقیقی مالک ربِ ذوالجلال کے دربار میں سلامی (نماز) کے لیے حاضر ہونا انسان کے لیے پہلا اور اہم سبق ہے، کہ تو بندہ اور غلام ہے، تیرا کام مالک حقیقی کی بندگی اور عبادت ہے، اس شروعات سے انسانی زندگی کی ابتدا ہو تی ہے اور جس دن کی ابتدامالک ِحقیقی کے حضور سلامی (نماز)سے ہو اس دن کا کیا کہنا…؟  بحیثیت مسلم ہمارے لیے صبح کی نیند سے بیدار ہو کر خدا کے حضور سلامی (نماز) پیش کرنا اس بات کا اعلان ہے کہ ہم کسی کے بندے اور غلام ہیں۔ چناں چہ اس اعلان کی وجہ سے بندے کی شروعات بندگی سے ہوتی ہے۔ اب اگر کوئی شروعات بندگی کے بجائے اپنے نفس کے بنائے ہوئے طریقوں سے کرے تو یہ قانون الٰہی کے خلاف ہے اور یہ واضح ہے کہ جو اپنے مالک کا وفادار نہ ہو، جو اپنے سب سے بڑے مالک کی فرماں برداری نہ کرے، اس کی دن بھرکی دوڑ دھوپ میں مالک کی رضا مندی و خوشی کا سوال ہی پیدا نہیںہوتا ۔ 24 گھنٹوں کے ان لمحوں میں پہلا سبق خدا کے حضور اپنی اصلیت تسلیم کر کے اس کے آگے جھکنے کا درس دیتا ہے۔ اب یہ ہم پر انحصار ہے کہ ہم قانونِ الٰہی کو مان کر اس کے آگے زندگی کی شروعات اس کی بندگی سے کریں یا اپنی مان کر غیر الٰہی طریقے اختیار کر کے خدا کے غضب کا شکار ہو جائیں۔ ہماری صبح بیداری کا اعلان ہماری پہچان ہے۔ مسلم ہونے کی حیثیت سے ہم بندے ہیں اور ہماری شروعات بندگی سے ہی ہونی چاہیے۔ مسلم ہوتے ہوئے اب کوئی بندگی کا طریقہ چھوڑ کر کوئی اور طریقہ اختیار کر لے ،تو اسے اپنے مسلمان ہونے پر غور کرنا چاہیے۔اس سلسلے میں قابل تحریک بات مفکر اسلام سید مودودیؒ نے فرمائی ہے کہ:  ’’اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ عبادت کا مطلب جانناآپ کے لیے کس قدر ضروری ہے۔اگر آپ اس کے صحیح معنی نہیں جانتے تو اس مقصد ہی کو پورا نہیں کرسکیں گے جس کے لیے آپ کو پیدا کیا گیا ہے، اور جو چیز اپنے مقصد کو پورا نہیں کرتی وہ نا کام ہوتی ہے۔ڈاکٹر اگر مریض کو اچھا نہ کرسکے توکہتے ہیں کہ وہ علاج میں ناکام ہوا، کسان اگر فصل نہ پیدا کرسکے توکہتے ہیں وہ زراعت میں نا کام ہوا، اسی طرح اگر آپ اپنی زندگی کے اصل مقصد یعنی’’عبادت‘‘ کو پورا نہیں کرسکتے تو کہنا چاہیے کہ آپ کی ساری زندگی ہی نا کامیاب ہوگئی۔ اس لیے آپ عبادت کا مطلب ضرور سمجھ لیں کیوں کہ اسی پر آپ کی زندگی کے کامیاب یا نا کامیاب ہونے کا انحصار ہے۔اس عبادت کے معنی ہیں بندگی اور غلامی۔ جو شخص کسی کا بندہ ہو، اگر وہ اس کی خدمت میں بندہ بن کر رہے اور اس کے ساتھ اس طرح پیش آئے جس طرح آقا کے ساتھ پیش آنا چاہیے تو یہ بندگی اور عبادت ہے۔اس کے برعکس جو شخص کسی کا بندہ ہو اور آقا سے تنخواہ پوری پوری وصول کرتا ہو،مگر آقا کے حضور میں بندوں کا سا کام نہ کرے تو اسے نافرمانی اور سرکشی کہا جاتا ہے۔بندے کا پہلا کام یہ ہے کہ آقا ہی کو اپنا آقا سمجھے اور یہ خیال کرے کہ جو میرا مالک ہے، جو مجھے رزق دیتا ہے، جو میری حفاظت اور نگرانی کرتا ہے، اسی کی وفاداری مجھ پر فرض ہے،اس کے سوا اور کوئی اس کا مستحق نہیں کہ میں اس کی وفاداری کروں۔بندے کا دوسرا کام یہ ہے کہ ہر وقت آقا کی اطاعت کرے،اس کے حکم کوبجالائے،کبھی اس کی خدمت سے منہ نہ موڑے اور آقا کی مرضی کے خلاف نہ خود اپنے دل سے کوئی بات کرے نہ کسی دوسرے شخص کی بات مانے۔غلام ہر وقت ہر حال میں غلام ہے۔ اسے یہ کہنے کا حق ہی نہیں کہ آقا کی فلاں بات مانوں گا اور فلاں بات نہیں مانوں گایا اتنی دیر کے لیے میں آقا کا غلام ہوں اور باقی وقت میں اس کی غلامی سے آزاد ہوں۔بندے کا تیسرا کام یہ ہے کہ آقا کا ادب اور اس کی تعظیم کرے،جو طریقۂ ادب اور تعظیم کرنے کا آقا نے مقرر کیا ہو اس کی پیروی کرے،جو وقت ’’سلامی‘‘ کے لیے حاضر ہونے کا آقا نے مقر ر کیا ہو، اس وقت ضرور حاضر ہوا ور اس بات کا ثبوت دے کہ میں اس کی وفاداری میں ثابت قدم ہوں‘‘۔  اسی تناظر میں اگر ہم اپنی زندگی کے ان24لمحات پر گہرائی و گیرائی سے غور کریں تو ہماری زندگی کا مقصد بھی واضح ہو جائے گا اور اس دنیا کی حقیقت کا بھی علم ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے ہمارے اسلاف راتوں میں شب بیداری کر کے ایک طرف خدا کی یاد میں مشغول رہتے تھے اور دوسری طرف اس وسیع کائنات پر، اپنی زندگی پر غور و فکر کرتے رہتے تھے۔ بلکہ ایک بزرگ کے بارے میں آتا ہے کہ جب وہ شام کے وقت نیند کا غلبہ محسوس کرتے تو نیند سے پہلے باوضو ہو کر اس طرح لیٹا کرتے تھے کہ دوسروں کو محسوس ہو کہ وہ انتقال کر گیا ہے۔ تھوڑی دیر اس حالت میں رہ کر وہ بزرگ اپنے آس پاس خاموشی کے ان لمحات میں اپنی موت کے بارے میں غور وفکر کرتا تھا کہ جب میری موت ہو گی تو برابر اسی طرح میری نعش کمرے میں پڑی ہو گی، لوگ آئیں گے، مجھے دیکھ دیکھ کر چلے جائیں گے، لیکن میں ان کی طرف نہ دیکھ سکوں گا اور نہ ہی ان کی کسی بات کا جواب دے پائوں گا۔ میرے غسل کا انتظام ہو گا، غسل دے کر میری میت کو جنازہ پڑھایا جائے گا، جنازے کے بعد میری نعش سپرد خاک کی جائے گی، قبرستان تک میرے قریبی رشتہ دار بھی آئیں گے، لیکن دفن کرنے کے بعد سب مجھے چھوڑ کر اپنے اپنے گھر چلے جائیں گے۔ پھر کیا ہو گا …اس بارے میں کسی کو فکر نہیں ہو گی، سب کچھ مجھے سہنا ہو گا۔ یہ سب کچھ کر کے اس بزرگ کے متعلق آتا ہے کہ وہ جب اس کے بعد اُٹھ کھڑا ہو جاتا تھے تو جیسے ان کی آنکھوں میں آنسوئوں کا سمندر بھرا ہوا ہوتا تھا اور اس طرح وہ اپنی زندگی میں ہی اپنا احتساب کر کے اس دوسری زندگی کے بارے میں خدا کی فرماں برادری کا عہد کرتا تھا۔دیکھا جائے تو قرآن ِمجیدبھی اس بات کی بار بار یاد دہانی کراتا رہتا ہے کہ ’’افلا تذکرون، افلا تدبرون، افلا تتفکرون۔  24گھنٹوں کے اس دن و رات میں ہمارے لیے کیا اور کیسے کیسے راز پوشیدہ ہیں ان کے بارے میں انسان تب ہی جان سکتا ہے جب وہ ان لمحات پر صحیح طور سے غور کرے۔ ٭٭٭٭٭٭


Monday, 17 February 2014

آہ…! وہ خلافت کا نظام


٭ابراہیم جمال بٹ
....................

قائد تحریک ِاسلامی، مایہ ناز سپوت ،بزرگ رہنما ،جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر مرحوم قاضی حسین احمد جس کی ولولہ انگیز تقاریر سے  شاید ہی کوئی سننے والا متاثر نہ ہوا ہو۔ ایک مرتبہ پاکستان کے ایک جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے جب سامعین حضرات نے کھڑے ہو کر ولولہ انگیز شخصیت کا اثر لئے ہوئے انقلابی نعرے بلند کئے۔ ان نعروں میں ایک طرف اللہ کی تکبیر (نعرۂ تکبیر) بلند ہو رہے تھے اور دوسری جانب ’’لاشرقیہ ولا غربیہ…اسلامیہ اسلامیہ‘‘ کے نعروں کی گونج سنائی دے رہی تھی۔ اسی دوران سامعین میں ایک نوجوان نے جب پاکستان کا مطلب کیا؟ کا نعرہ بلند کیا تو ہر جانب سے ایک ہی صدا سنائی دی : ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ پھر ایک اور نعرہ بلند کیا گیا : ’’یہاں کیا چلے گا؟… نظام مصطفیﷺ‘‘تو یکا یک قاضی حسین مرحوم جس کے ہونٹ اس سے قبل نعروں کا جواب میں ہل رہے تھے، نے اپنا ہاتھ اوپر اٹھا کر سامعین کی طرف ایسے اشارہ کیا کہ محسوس ہوا کہ لوگوں سے چپ رہنے کی کہہ رہے ہیں۔ چند ہی لمحوں بعد جب انقلابی نعروں کے درمیان لوگوں نے یکایک خاموشی اختیار کر لی ،تو قاضی مرحوم نے ایک ایسی بات کہہ ڈالی کہ سب لوگ جن میں ڈائس کے آس پاس موجود تحریکی زعما ء اور سامعین سن کردھنگ رہ گئے۔ قاضی حسین مرحوم نے کہا: ’’میرے دوستو! میرے عزیز نوجوانو! مجھے ایک بات کا جواب دو… جب ہی میں سمجھوں گا کہ آپ دل ودماغ کی پوری یکسوئی سے نعرے دے رہے ہیں۔ مجھے یہ بتائو کہ اگر ہمارے ملک عزیز ’’پاکستان‘‘ میں آج ابھی اس وقت اعلان ہو جائے کہ اس سرزمین پر شریعت نافذ کرو ، تو آپ میں سے کون ہے جو اس شرعی نظام ’’خلافت‘‘ کے سسٹم کو کو نافذ کرنے کے لیے ایک ’’پولیس مین ‘‘کا کردار ادا کرے؟ چنانچہ یہ سنتے ہی سب لوگوں پر خاموشی طاری ہوگئی، کسی کے منہ سے کوئی جواب نہیں، کوئی زبان نہیں ہلی، ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ سب سامعین و ڈائس پر موجود زعماء گھونگے اور بہرے ہو گئے ہیں۔اس حالت کا مشاہدہ کر کے قاضی حسین مرحوم نے ایک بار پھر اپنی زبان کھولی اور کہا : ’’جب تم میں سے اس نظام کے لیے کوئی ’’پولیس والا‘‘ بننے کے لیے ابھی تیار نہیں ،تو کس زبان سے یہ نعرے ’’یہاں کیا چلے گا…نظامِ مصطفی‘‘ اور ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ‘‘ دے رہے ہو۔اس نظام کے لیے تم میں سے کوئی ’’پولیس والا‘‘ بننے کو تیار نہیں تو اسلامی نظام کا تمہارے ہاتھوں کیا حشر ہو گا۔ اس سرزمین پر اسلام کا نفاذ ہو گا لیکن اس کے لیے ہمیں تیاری کرنی چاہئے۔ اس کا ایک ادنی سپاہی بننے کے لیے اپنے اندر امانت داری کے ساتھ ساتھ بہادری کا وصف پیدا کرنا چاہئے۔ ‘‘چنانچہ اگر حقیقت کی آنکھوں سے دیکھا جائے، دل اور دماغ کو صحیح استعمال کر کے سوچا جائے تو اس بات میں صد فیصد دم ہے کہ ہم کس نظام کی بات کر رہے ہیں۔نعروں کی گونج سے نہ آج تک کوئی انقلاب آیا ہے اور نہ ہی آنے کی آئندہ توقع رکھنی چاہئے۔ بلکہ گرم گر م جذبات کے ساتھ جب تک صحیح تیاری نہ ہو تب تک اسلامی نظام کا نفاذ اصل صورت میں نہیں ہو سکتا ۔ اسلامی نظام کوئی ایسا نظریہ نہیں جو انسانوں کے اذہان کی اختراع ہے بلکہ یہ نظام خدا برتر واعلیٰ کا مکمل اور لاثانی نظام ہے۔ اس نظام کو دنیا میں نافذ کرنے کے پیغمبر آخر الزماں محمد مصطفی ﷺ نے ایک طرف لوگوں کے اذہان تیار کئے اور دوسری طرف اس کے نفاذ کی کوشش میں بیش بہا قربانیںپیش کیں۔ گویا افراد سازی کے ساتھ ساتھ اس کے قیام کے لیے ایک ایسی جماعت تیار کی جس میں ہر طرح کے انسان پائے جاتے تھے۔ خلیفۃ المسلمین کی ذمہ داری کے لیے ایک طرف ابوبکر وعمر تو دوسری جانب عثمان وعلی رضی اللہ عنہم اجمعین کو پروان چڑھایا۔سپہ سالاری کے لیے کس کس کا نام لیا جائے، ہر ایک صحابی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ہر دم تیار رہتا تھا۔ نظام اسلامی کے جن شعبوں کے لیے بھی کوئی ضرورت پڑتی تو کوئی مشکل نہیں تھا، ایک سے بڑھ کر ایک فرد تیار تھا۔ غرض یہ کہ نظامِ اسلامی افراد سازی چاہتا ہے۔ یہ نظام قربانیاں چاہتا ہے۔ یہ نظام مستقل مزاجی کا طلب گار ہے، یہ نظام محبت، ایمان داری، بہادری، جذبہ جہاد، اور مالی، جانی اور وقتی قربانی چاہتا ہے۔ یہ سب کچھ نہ ہو تو ہمارے نویہ نعرے جو اکثر وبیشتر سنائی دیتے ہیں کھوکھلے ثابت ہوں گے۔ کیوں کہ ان نعروں کی جو اصل حقیقت ہے اس سے ہم کوسوں دور ہیں۔ تو ضرورت ہے اس بات پر سوچنے کی، اس جذبہ جو کہ صحیح جذبہ ہے کہ پورا عالم اسلام کے سائے تلے آجائے کے لیے ہر حیثیت سے تیاری مطلوب ہے۔ جذبہ صحیح ہو مگر تیاری نہ ہو تووہ کچھ نہیں پایا جا سکتا جو خیال ہو، بلکہ جذبہ کے ساتھ ساتھ جب تک امت مسلمہ اٹھ کر اس کے لیے ذہنی، فکری اور نظریاتی طور سے کھڑی نہ ہو جائے تب تک یہ خیال است محال است کے مصداق ہے۔ 
٭٭٭٭٭